روزانہ گرین ٹی پینے کے حیران کن فوائد، مگر ماہرین نے اہم احتیاط بھی بتا دی

لاہور(ویب ڈیسک)گرین ٹی دنیا بھر میں صحت بخش مشروب کے طور پر مقبول ہے اور بہت سے افراد اسے وزن کنٹرول کرنے، توانائی برقرار رکھنے اور مجموعی صحت کے لیے روزمرہ معمول کا حصہ بناتے ہیں۔ یہ بھی بلیک ٹی کی طرح کیمیلیا سائنینسس پودے سے حاصل ہوتی ہے، تاہم اسے نسبتاً کم پراسیس کیا جاتا ہے۔

گرین ٹی میں کیٹیچنز اور دیگر اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں، جن کے ممکنہ صحت بخش اثرات پر متعدد تحقیقات ہوچکی ہیں۔ تاہم اسے کسی بیماری کا علاج یا تیزی سے وزن کم کرنے کا ذریعہ سمجھنا درست نہیں۔

کیا گرین ٹی وزن کم کرتی ہے؟

گرین ٹی میں موجود کیفین اور کیٹیچنز میٹابولزم اور جسم کے توانائی استعمال کرنے کے عمل پر معمولی اثر ڈال سکتے ہیں، لیکن صرف گرین ٹی پینے سے نمایاں وزن کم ہونے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔

وزن کو صحت مند حد میں رکھنے کے لیے متوازن غذا، جسمانی سرگرمی، مناسب نیند اور کیلوریز کا خیال زیادہ اہم ہے۔ گرین ٹی صحت مند طرز زندگی کا حصہ تو بن سکتی ہے، مگر اس کا متبادل نہیں۔

دل کی صحت کے لیے ممکنہ فوائد

گرین ٹی کے اینٹی آکسیڈنٹس کو قلبی صحت سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ بعض مطالعات میں باقاعدگی سے گرین ٹی پینے اور کولیسٹرول سمیت دل کی صحت کے بعض اشاریوں میں بہتری کے درمیان تعلق دیکھا گیا ہے۔

تاہم دل کے مرض یا کولیسٹرول کے علاج کے لیے تجویز کردہ ادویات کی جگہ گرین ٹی استعمال نہیں کرنی چاہیے۔

دماغی توجہ اور توانائی میں مدد

گرین ٹی میں کیفین کے ساتھ ایل تھیانین نامی امینو ایسڈ بھی موجود ہوتا ہے۔ کیفین وقتی طور پر چوکنا رہنے اور توجہ بہتر بنانے میں مدد کرسکتی ہے، جبکہ گرین ٹی میں عام طور پر کافی کے مقابلے میں کیفین کی مقدار کم ہوتی ہے۔

البتہ کیفین کا اثر ہر شخص پر مختلف ہوسکتا ہے۔ حساس افراد کو زیادہ گرین ٹی استعمال کرنے سے بے چینی یا نیند میں خلل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

جلد کے لیے بھی ممکنہ فوائد

گرین ٹی میں موجود اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی انفلامیٹری اجزا کے جلد پر ممکنہ فوائد کا بھی مطالعہ کیا گیا ہے، تاہم روزانہ گرین ٹی پینے سے ایکنی ختم ہونے یا جلد لازمی طور پر صاف اور چمکدار ہوجانے کے دعوے کو حتمی نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

صحت مند جلد کے لیے متوازن غذا، مناسب نیند، پانی کا استعمال اور سورج کی شعاعوں سے تحفظ بھی ضروری ہیں۔

دن میں کتنی گرین ٹی مناسب ہے؟

مضمون کے مطابق روزانہ 2 سے 3 کپ گرین ٹی معتدل مقدار سمجھی جاتی ہے، تاہم مناسب مقدار چائے کی طاقت، مجموعی کیفین کی مقدار اور فرد کی برداشت پر منحصر ہے۔

اگر خالی پیٹ گرین ٹی پینے سے تیزابیت یا معدے میں تکلیف ہوتی ہو تو اسے کھانے کے بعد پیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح رات دیر سے گرین ٹی پینے سے بعض افراد کی نیند متاثر ہوسکتی ہے۔

جن افراد کو آئرن کی کمی، معدے کی بیماری یا کیفین سے حساسیت ہو، انہیں زیادہ مقدار میں گرین ٹی کو معمول بنانے سے پہلے ڈاکٹر یا ماہر غذائیت سے مشورہ کرنا چاہیے۔

مزید خبریں

Back to top button