عالمی معیشت یا ‘نہر والا پل’: مغرب نے دنیا کو ‘کیش لیس’ دھوکا دے کر خود سونا سنبھال لیا

نہال معظم
فرانس سے اڑتی اڑتی ایک ایسی معاشی خبر آئی ہے جس نے ملکہ ترنم نور جہاں کے مشہورِ زمانہ گانے "سانوں نہر والے پل تے بلا کے تے خورے ماہی کتھے رہ گیا” کی یاد تازہ کر دی ہے۔ اس گیت میں جس طرح ایک دھوکے باز محبوب نے پیار اور اعتماد میں اندھی محبوبہ کو نہر کے پل پر بلا کر خود راستہ بدل لیا تھا، کچھ یہی حال آج کل یورپ کا ہے۔ دنیا کو پیپر کرنسی کے دھوکے اور ڈیجیٹل کرنسی کے پرکشش جال والے پل پر چڑھا کر، کیا یورپ خود پسِ پردہ انہی پرانے مگر محفوظ اثاثوں یعنی سونے اور چاندی کی طرف واپس لوٹ رہا ہے؟ یہ وہ سلگتا ہوا سوال ہے جو پیرس سے آنے والی اس حالیہ معاشی خبر کے بعد ذہنوں میں دستک دے رہا ہے۔ ایک ایسے دور میں جہاں عام انسان کو مادی وجود سے محروم کر کے پلاسٹک کارڈز اور اسکرین پر چمکتے ہوئے ہندسوں کے سراب کے پیچھے بھگایا جا رہا ہے، وہاں جدیدیت کا علمبردار مغرب خود خاموشی سے صدیوں پرانے حقیقی اثاثے کی پناہ میں لوٹ رہا ہے اور فرانس کی سرکاری ٹکسال کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے خالص سونے کے نئے سکے کا اجرا محض ایک تجارتی قدم نہیں، بلکہ اسی گہری عیاری کا بگل ہے۔
فرانس کی ایک ہزار سال سے زائد پرانی سرکاری ٹکسال "Monnaie de Paris” نے مئی دو ہزار چھبیس میں سرمایہ کاری کے مقاصد کے لیے خالص سونے کا ایک نیا سکہ متعارف کرایا ہے، جسے "ماریان گولڈ” کا نام دیا گیا ہے۔ یہ سکہ نناوے اعشاریہ نو فیصد خالص سونے سے تیار کیا گیا ہے جو ایک اونس سے لے کر اس کے دسویں حصے تک کے مختلف اوزان میں دستیاب ہوگا۔ عیاری کی انتہا دیکھیے کہ اس سکے کو حاصل کرنے کے لیے ایک ڈیجیٹل آپشن بھی دیا گیا ہے، یعنی آپ کاغذ اور سکرین پر تو ہندسوں کے مالک بنے رہیں گے مگر آپ کا حقیقی سونا پیرس ٹکسال کے زیرِ زمین انتہائی محفوظ فولادی تہ خانوں میں مقفل رہے گا۔ فرانسیسی عوام کے لیے اس کی آن لائن فروخت شروع ہو چکی ہے جبکہ عام دنیا کے لیے اگلے مہینے سولہ جون سے یہ بازار کھل جائے گا، جہاں قیمت کا تعین کسی کاغذی وعدے پر نہیں بلکہ عین اسی لمحے مارکیٹ میں سونے کے لائیو ریٹ کے مطابق ہوگا۔
ظاہر ہے کہ فرانس کا یہ اقدام کوئی اچانک اٹھایا گیا قدم نہیں بلکہ ایک گہری معاشی چالاکی اور مستقبل کے خوف کا واضح عکاس ہے۔ ساری دنیا کو پیپر کرنسی کے دھوکے اور ڈیجیٹل بینکنگ کے خوشنما جال میں جکڑنے کے بعد، اب جب عالمی افراطِ زر کا طوفان خود مغرب کے دروازے پر دستک دے رہا ہے، تو انہیں اپنے ہی بنائے ہوئے نظام کی کھوکھلی حقیقت کا احساس ہونے لگا ہے۔ یہ وہی کاغذی نوٹ ہیں جنہیں حکومتیں جب چاہیں اندھا دھند چھاپ کر عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالتی ہیں، مگر اب جبکہ خود یورو اور ڈالر کی ساکھ عالمی سیاسی بساط پر ڈگمگا رہی ہے، تو سرمایہ کاروں کا اس بے مایہ کاغذ پر سے اعتماد اٹھ رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی عالمی نظام کسی بڑے بحران کی زد میں آتا ہے، تو کاغذی نوٹ ردی کے ٹکڑے بن جاتے ہیں اور دنیا واپس اسی سونے اور چاندی پر لوٹ آتی ہے جس کی اپنی ایک مادی اور مستقل قیمت ہے۔
یہ معاشی بساط کا وہ تضاد ہے جہاں غریب اور متوسط طبقے کو تو یہ سکھایا جاتا ہے کہ کیش لیس سوسائٹی ہی مستقبل کی معراج ہے تاکہ ان کے ایک ایک پیسے پر ریاست اور بینکوں کا مکمل کنٹرول رہے، لیکن جب بات خود بڑے سرمایہ کاروں اور یورپی اشرافیہ کے تحفظ کی آتی ہے تو وہ کسی ڈیجیٹل سراب پر بھروسہ کرنے کے بجائے ماریان جیسے خالص سونے کے چمکتے سکوں کی شکل میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ فرانس اس میدان میں کوئی پہلا کھلاڑی نہیں ہے، وہ تو کینیڈا کے میپل لیف اور جنوبی افریقہ کے کپروگرینڈ جیسے سکوں کی دہائیوں پرانی اجارہ داری اور اس کے منافع کو دیکھ کر اس دوڑ میں شامل ہوا ہے، کیونکہ گزشتہ برسوں میں سونے کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا اور جنوری دو ہزار چھبیس میں یہ چھپن سو ڈالر فی اونس کی تاریخی سطح کو چھو گئیں، جس نے مغرب کو مجبور کیا کہ وہ ماضی کے نیپولین اور لوئس دور کے پرانے سکوں پر انحصار چھوڑ کر عالمی گولڈ مارکیٹ میں اپنا نیا متبادل لے کر آئے۔
یہاں ایک بڑا معاشی ریڈ الرٹ اور پیغام ہمارے اپنے خطے یعنی جنوبی ایشیا کے لیے بھی پوشیدہ ہے، جسے اب خوابِ غفلت سے جاگنا ہوگا۔ ہمارے ہمسائے میں چین اس کھیل کی گہرائی کو بہت پہلے بھانپ چکا ہے۔ بیجنگ ایک طرف ڈیجیٹل یوآن کو فروغ دے رہا ہے تو دوسری طرف پسِ پردہ برسوں سے ریکارڈ ٹنوں کے حساب سے سونا خرید کر اپنے مرکزی بینک کے تہ خانوں میں جمع کر رہا ہے۔ چین جانتا ہے کہ معاشی بالادستی کی جنگ سکرین کے ہندسوں سے نہیں، بلکہ اسی دھات سے جیتی جائے گی جو ہزاروں سال سے ناقابلِ شکست رہی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے جیسے ترقی پذیر ممالک اب بھی آئی ایم ایف کی شرطوں، کاغذی قرضوں کے بوجھ اور اسی ڈالر و یورو کی بیساکھیوں پر ناچ رہے ہیں جو خود اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ ہمارے لیے کڑا وقت ہے کہ ہم اپنی معاشی پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لیں اور کاغذی نوٹوں کے اس سراب سے باہر نکل کر اپنے ملکی ذخائر کو سونے جیسے ٹھوس اور محفوظ اثاثوں کی شکل میں تبدیل کریں۔ اگر ہم نے وقت پر یہ قدم نہ اٹھایا تو معیشت کا یہ نہر والا پل کب زمین بوس ہو جائے گا، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔
دراصل یہ پوری صورتحال مغرب کی اس شاطرانہ حکمتِ عملی کو بے نقاب کرتی ہے جہاں دنیا کے لیے قانون اور خواب کچھ اور ہیں جبکہ ان کے اپنے دفاع کے طریقے کچھ اور ہیں۔ جب دنیا کے بڑے معاشی پاور ہاؤس خود سونے کے نئے سکے ڈھالنے اور انہیں بیچنے کی دوڑ میں لگ جائیں، تو یہ اس امر کا کھلا اعتراف ہوتا ہے کہ انہیں خود اپنے تخلیق کردہ کاغذی اور ڈیجیٹل نظام پر رتی برابر بھروسہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا معاشی کھیل ہے جس میں عام انسان کو سکرین پر چمکتے ہوئے ہندسوں کی عارضی خوشی دے کر، پسِ چلمن حقیقی دنیا کی تمام دولت اور سونا خود اپنے تہ خانوں میں مقفل کیا جا رہا ہے، تاکہ جب کاغذی اور ڈیجیٹل سلطنتیں ریت کے گھروندے کی طرح بیٹھیں، تو پیرس اور لندن کے تہ خانوں میں چمکتا سونا ان کی بقا کا ضامن بن سکے۔



