فروزن اور ڈبہ بند غذائیں: سستا متبادل یا مکمل غذائیت؟ سائنسی حقائق کیا کہتے ہیں؟

راجہ نوید

​منجمد پھل اور ڈبہ بند سبزیوں کی غذائیت، ان کی معاشی افادیت اور جدید طرز زندگی میں ان کی اہمیت پر اگر تجزیاتی نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ روایتی سوچ کے برعکس یہ اشیاء صرف وقت اور پیسے کی بچت کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ ایک صحت بخش غذائی متبادل بھی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں عمومی طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ صرف کھیت سے تازہ توڑی گئی سبزیاں اور پھل ہی مکمل غذائیت فراہم کرتے ہیں، جبکہ کسی بھی قسم کی پروسیسنگ سے گزرے ہوئے کھانے اپنی افادیت کھو دیتے ہیں۔ تاہم عالمی سطح پر کی جانے والی سائنسی تحقیقات اس روایتی نظریے کو زبردست چیلنج کرتی ہیں۔ یونیورسٹی آف جارجیا (University of Georgia) اور کیلیفورنیا یونیورسٹی (UC Davis) کے تحقیقی مطالعات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ کھیت سے ٹوٹنے کے بعد جب تازہ سبزیاں اور پھل سپلائی چین سے گزر کر مارکیٹ اور پھر گھر کے فریج میں ۵ سے ۷ دن تک پڑے رہتے ہیں، تو ان کے وٹامنز تیزی سے ضائع ہونے لگتے ہیں۔ مثال کے طور پر پالک عام درجہ حرارت پر ایک ہفتے میں اپنا تمام وٹامن سی کھو دیتی ہے، جبکہ منجمد کرنے کی تکنیک میں پھلوں اور سبزیوں کو توڑتے ہی فوری فریز کر دیا جاتا ہے، جس سے ان میں موجود وٹامن اے، وٹامن سی اور فولیٹ سال بھر اسی حالت میں قید اور محفوظ رہتے ہیں۔

​اسی طرح ‘جرنل آف فوڈ کمپوزیشن اینڈ اینالیسس’ کے لیبارٹری تجربات کے مطابق ڈبہ بند سبزیوں پر تیز حرارت کے استعمال سے اگرچہ پانی میں حل ہونے والے کچھ وٹامنز میں کمی آتی ہے، مگر ان کے بنیادی اجزاء یعنی فائبر، پروٹین اور کیلشیم و میگنیشیم جیسے اہم معدنیات مکمل طور پر بحال رہتے ہیں۔ سائنسی بنیادوں پر یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ حرارت کے عمل سے ٹماٹر اور گاجر میں موجود لائکوپین اور بیٹا کیروٹین جیسے زبردست اینٹی آکسیڈنٹس کی خلیاتی دیواریں ٹوٹ جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں یہ اجزاء عام کچے ٹماٹر یا گاجر کے مقابلے میں انسانی جسم کے لیے زیادہ آسانی سے قابلِ جذب بن جاتے ہیں۔ معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو منجمد اور کینڈ کھانے روزمرہ کے بجٹ کو متوازن رکھنے اور خوراک کا ضیاع روکنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ موسم کے بغیر ملنے والی گرانی اور ناگہانی مہنگائی کے دور میں یہ مصنوعات نسبتاً سستی دستیاب ہوتی ہیں اور کیونکہ یہ جلدی خراب نہیں ہوتیں، اس لیے خریدار کو بار بار تازہ سامان خریدنے اور اسے ضائع ہونے سے بچانے میں مدد ملتی ہے۔

​تاہم ان غذائی متبادلات کا تجزیہ کرتے وقت ان کے ممکنہ مضر پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کینڈ فوڈز کی پائیداری بڑھانے کے لیے اکثر اوقات ان میں اضافی نمک یا سوڈیم شامل کیا جاتا ہے، جبکہ ڈبہ بند پھلوں کو میٹھا رکھنے کے لیے گاڑھے شربت کا استعمال ہوتا ہے، جو بلڈ پریشر اور شوگر کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس مسئلے کا حل صارف کی آگاہی میں پنہاں ہے، جہاں وہ خریدتے وقت بغیر نمک یا قدرتی جوس والے ڈبوں کا انتخاب کر کے اور سبزیوں کو دھونے کے بعد استعمال کر کے ان خطرات کو کم کر سکتا ہے۔ مجموعی طور پر، یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ منجمد اور ڈبہ بند خوراک تازہ خوراک کی دشمن نہیں بلکہ ایک بہترین اور سائنسی طور پر تصدیق شدہ حلیف ہے، جو کم بجٹ اور مصروف ترین جدید دور میں بھی متوازن اور بہترین غذائیت کی فراہمی کو ممکن بناتی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button