ارشد ندیم جدید تربیت حاصل کریں تومزید عالمی اعزازات جیت سکتے ہیں،فیاض بخاری

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)پیرس اولمپکس 2024 میں جیولن تھرو میں اولمپک کی تاریخ کا 118 سالہ ریکارڈ قائم کر کے گولڈ میڈل حاصل کرنے والے ارشد ندیم کے ابتدائی کوچ فیاض احمد بخاری اپنے ہونہار شاگرد کی ناقص کارکردگی پر بہت دلبرداشتہ ہیں لیکن وہ پر امید ہیں کہ ارشد ندیم عزم اور جذبے سے بھرپور محنت کرتے ہوئے جدید تقاضوں کے مطابق تربیت حاصل کریں تو عالمی سطح پر پاکستان کے لیے مزید اعزازات حاصل کر سکتے ہیں۔
پاکستان واپڈا میں ٹیکنیکل کوچ کی ذمہ داریاں ادا کرنے والے فیاض بخاری نے لوک سہتا 54 ویں قومی ایتھلیٹکس چیمپین شپ کے دوران این ای ڈی یونیورسٹی کراچی میں نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ خداداد صلاحیتوں سے مالا مال اولمپین ارشد ندیم کی زندگی سخت محنت اور جدوجہد سے پر ہے۔ ایک راج مستری کے گھر میں پیدا ہونے والے 29 سالہ ارشد ندیم پیرس اولمپکس 2026 کے بعد راتوں رات ارب پتی بن گئے۔ تاہم، بدقسمتی ان کے آڑے آگئی اور مختلف انجریز کا شکارارشد ندیم کی کارکردگی مسلسل زوال پذیر ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ 2 جنوری 1997 کو پنجاب کے ضلع خانیوال کی تحصیل میاں چنوں کے ایک گاؤں میں پیدا ہونے والے ارشد ندیم اپنی بلند قد و قامت اور طاقت کے سبب کھیلوں کے لیے مناسب تھے۔ ابتدا میں کرکٹ فٹبال اور کبڈی کھیلنے والے ارشد ندیم میں قدرتی صلاحیتیں موجود تھیں۔ بہتر مالی مسائل کے تلاش میں پاکستان واپڈا میں ملازمت حاصل کرنے کے لیے آنے والے ارشد ندیم میں پوشیدہ اہلیت اور صلاحیتوں کو دیکھ کر جیولین تھرو مقابلوں میں بہتر نتائج کے لیے ان کی رہنمائی کی اور اس ضمن میں بھرپور محنت کی۔
ارشد ندیم نے بھی اپنے مقصد کے حصول کے لیے جان کی بازی لگا دی اور جدوجہد کا سلسلہ جاری رکھا۔ ان کی محنت رنگ لائی۔ بھارت کے شہر گوہاٹی میں 2016 میں ساؤتھ ایشین گیمز میں 55.33 میٹر دور نیزہ پھینک کر برانز میڈل جیتنے سے ارشد ندیم میں حوصلہ پیدا ہوا اور آگے بڑھنے کی لگن نے ان کو مزید محنت پر اکسایا۔
اگلے برس بھارت ہی میں ہونے والی ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں ارشد ندیم کی بہتر کارکردگی حوصلہ مند رہی، پھر انڈونیشیا کے شہر جکارتا کے ایشین گیمز 2018 میں ارشد ندیم نے نئے قومی ریکارڈ کے ساتھ 80.75 میٹر دور نیزہ پھینک کر تیسری پوزیشن حاصل کی اور برانز میڈل جیتا۔
ارشد ندیم کی کامیابیوں کا سلسلہ جاری رہا اور وہ ٹوکیو اولمپکس 2020 میں کوالیفائی کرنے والے پہلے پاکستانی ایتھلیٹ بن گئے۔
ارشد ندیم نے گیمز میں 84.62 میٹر کے ساتھ پانچویں پوزیشن حاصل کر کے امید کی کرن پیدا کی۔ برمنگھم، انگلینڈ میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز 2022 میں ارشد ندیم نے 90.18 میٹر دور نیزہ پھینک کر گولڈ میڈل حاصل کرتے ہوئے پہلے ایشیائی ایتھلیٹ ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا۔
فیاض بخاری کا کہنا تھا کہ ارشد ندیم نے ان کامیابیوں کے بعد پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا جس کا نتیجہ پیرس اولمپکس 2024 میں سامنے آیا۔
ارشد ندیم نے 92.97 میٹر دور نیزہ پھینک کر اولمپکس کی 118 سالہ تاریخ کا نیا ریکارڈ بنا ڈالا اور ساتھ ہی 40 سال بعد پاکستان کو گولڈ میڈل دلوانے میں کامیاب ہوئے جبکہ یہ پاکستان کی جانب سے پہلا انفرادی گولڈ میڈل رہا۔
اس کے بعد ارشد ندیم کی قسمت چمک اٹھی، حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ حسن کارکردگی اور ہلال امتیاز سے نوازا، ارشد ندیم پر انعامات اور نوازشوں کی بھرمار ہوگئی اور وہ راتوں رات ارب پتی بن گئے۔
ارشد ندیم کے ابتدائی کوچ فیاض بخاری نے بتایا کہ انجریز کسی بھی کھلاڑی کی زندگی کا اہم ترین حصہ ہوتی ہیں۔ جدید دور میں کھلاڑی انجری سے بچنے کے لیے حکمت عملی اپناتا ہے، بدقسمتی سے ارشد ندیم کہنی میں تکلیف، گھٹنے اور کندھے کے درد کی وجہ سے اپنی کارکردگی کا تسلسل برقرار نہیں رکھ سکے۔ ارشد ندیم کے معاملے پر اگر درست سمت میں توجہ دی جائے تو وہ ان انجریز سے نجات حاصل کر سکتے ہیں جبکہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔
فیاض بخاری نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ارشد ندیم کو جدید ترین تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
ارشد ندیم کی بدقسمتی رہی کہ وہ کامن ویلتھ گیمز گلاسکو 2026 میں نویں پوزیشن پر آئے اور میڈل کی دوڑ سے باہر ہو گئے۔ اسی طرح بڈاپسٹ میں ہونے والی عالمی ایتھلیٹکس چیمپین شپ میں ارشد ندیم 81.49 میٹر دور ہی نیزا پھینک سکے اور پانچویں پوزیشن پر آئے جبکہ جاپان میں ہونے والے ایشین گیمز 2026 میں وہ 80.29 میٹر دور ہی نیزہ پھینک پائے اور چوتھی پوزیشن پائی اور میڈل سے محروم رہے۔
انجریز کے سبب ارشد ندیم کو مختلف مقابلوں سے دستبردار ہونا پڑا جن میں حال ہی میں کراچی میں ہونے والی لوک سہتا 54 قومی ایتھلیٹکس چیمپین شپ بھی شامل ہے۔
فیاض بخاری کا کہنا تھا کہ وہ بہت پر امید ہیں کہ ارشد ندیم بھرپور محنت کر کے آئندہ مستقبل میں پاکستان کے لیے مزید اعزازات حاصل کر سکتے ہیں۔ محض 29 برس کی عمر میں اگر وہ کھیل کو خیرباد کہنے پر مجبور ہوئے تو یہ بہت بڑا المیہ ہوگا۔ اگر مثبت انداز میں کوششیں کی جائیں اور ارشد ندیم کی درست سمت میں رہنمائی ہو تو وہ اگلے پانچ برس تک مزید پاکستان کے لیے کارنامے انجام دینے کی صلاحیت اور اہلیت رکھتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اولمپین ارشد ندیم قومی کھیلوں میں ہونے والی سیاست سے خود کو دور رکھیں اور مفادات کی جنگ میں آلہ کار نہ بنیں۔ دولت کا مل جانا اپنی جگہ لیکن کھیل میں ملنے والے اعزازات سب سے بڑی دولت ہوتے ہیں۔
دوسری جانب اولمپین ارشد ندیم کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس عظیم ایتھلیٹ کو مثبت رویہ برقرار رکھنے کی ضرورت ہے،انا اور تکبر سے بچ کر ہی اچھے نتائج کا حصول ممکن ہے۔


