بدین:سانگی پھرھو میں تعلیمی اداروں کی زبوں حالی، اساتذہ اور فرنیچر کی قلت کیخلاف عوامی تحریک کی احتجاج ریلی

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ/ )عوامی تحریک ضلع بدین کے صدر مختیار بکاری، مہران درس، متل میمن، اکبر میمن، پرشوتم کولہی، امر جلیل ہالیپوٹو، ڈھولو کولہی اور دیگر رہنماؤں نے کہا ہے کہ سندھ میں تعلیم کو جاگیرداروں اور افسر شاہی نے مل کر دانستہ طور پر تباہ کیا ہے، جبکہ نئی نسل کو قلم سے محروم کرکے منشیات کی طرف دھکیلنے کی سازش کی جا رہی ہے سانگی پھڑھو میں تعلیمی اداروں کی خستہ حال عمارتوں کی مرمت، اساتذہ کی کمی اور فرنیچر کی عدم دستیابی کے خلاف عوامی تحریک کی جانب سے یونین کونسل کے دفتر سے ریلی نکالی گئی، جو شہر کے مرکزی بازار میں پہنچ کر احتجاجی دھرنے میں تبدیل ہوگئی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ سندھ کے دیگر علاقوں کی طرح سانگی پھرھو میں بھی تعلیمی نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، لیکن سندھ حکومت اور متعلقہ انتظامیہ مسائل کے حل کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں کر رہی

انہوں نے کہا کہ شہر کے مختلف اسکولوں کی عمارتیں خستہ حالی کا شکار ہیں، جبکہ اساتذہ اور فرنیچر کی کمی کے باعث طلبہ کی تعلیم شدید متاثر ہو رہی ہے۔ تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی نئی نسل کے مستقبل سے ناانصافی کے مترادف ہے

عوامی تحریک کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ سانگی پھڑھو کے ہائی اسکولوں، پرائمری اسکولوں اور گرلز پرائمری اسکول سمیت تمام تعلیمی اداروں کے مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں، خستہ حال عمارتوں کی مرمت کرائی جائے اور اساتذہ و فرنیچر کی کمی دور کرکے طلبہ کو تعلیم کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائےانہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا

مزید خبریں

Back to top button