خیبرپختونخوا کی صنعتوں کیلئے بڑی خوشخبری، سابق فاٹا اور پاٹا یونٹس سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ

پشاور (جانو ڈاٹ پی کے) خیبرپختونخوا حکومت نے سابق فاٹا اور پاٹا میں قائم صنعتی یونٹس کے لیے بڑا ریلیف دے دیا، صوبائی حکومت نے مخصوص شرائط کے تحت ان صنعتوں کو سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے۔
خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی نے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، جس کے مطابق سیلز ٹیکس استثنیٰ سے فائدہ اٹھانے کے لیے صنعتی یونٹ کا سابق فاٹا یا پاٹا کے علاقے میں قائم ہونا لازمی ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق متعلقہ صنعتی یونٹ کا ودہولڈنگ ایجنٹ کے طور پر رجسٹرڈ ہونا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے، جبکہ ورچوئل یا ریموٹ ذرائع سے فراہم کی جانے والی خدمات کو سیلز ٹیکس استثنیٰ میں شامل نہیں کیا گیا۔
حکام کے مطابق سیلز ٹیکس سے استثنیٰ مخصوص شرائط پوری کرنے والے صنعتی یونٹس کو ہی حاصل ہوگا۔ اگر کسی یونٹ کی جانب سے مقررہ شرائط پوری نہ کی گئیں یا غلط معلومات فراہم کی گئیں تو متعلقہ حکام کو استثنیٰ واپس لینے کا اختیار حاصل ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سیلز ٹیکس استثنیٰ کا اطلاق یکم اگست 2026 سے ہوگا اور یہ سہولت 30 جون 2028 تک مؤثر رہے گی۔
تاہم نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ استثنیٰ کے نفاذ سے قبل جمع کرائے گئے ٹیکس کی واپسی یا ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ نہیں کیا جاسکے گا۔
خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے یہ اقدام سابق فاٹا اور پاٹا میں صنعتی سرگرمیوں کے فروغ، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور کاروباری شعبے کو سہولت فراہم کرنے کے تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے۔
متعلقہ صنعتی یونٹس کو ہدایت کی گئی ہے کہ سیلز ٹیکس استثنیٰ سے فائدہ اٹھانے کے لیے نوٹیفکیشن میں درج تمام شرائط پوری کرنا ہوں گی، بصورت دیگر انہیں ٹیکس استثنیٰ کی سہولت حاصل نہیں ہوگی۔



