بدین:ہائی ویز ڈپارٹمنٹ ایمپلائز یونین کا انجنیئرز کی کرپشن اور اختیارات کے ناجائزاستعمال کیخلاف احتجاج

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)ہائی ویز ڈپارٹمنٹ ایمپلائز یونین کا مطالبات کی منظوری کے لیے بھوک ہڑتالی کیمپ قائم ، انجنیئرز پر کریپشن ،سرکاری مشینری اور اختیارات کا ناجائز استعمال کا الزام محکمہ ہائی ویز  ایمپلائز یونین (سی بی اے) کی جانب سے اپنے جائز مطالبات کے حق میں ہائی ویز آفس کے مرکزی گیٹ کے سامنے ایگزیکٹو انجینئر کے خلاف بھوک ہڑتالی کیمپ قائم کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا

تفصیلات کے مطابق یونین رہنماؤں علی نواز کوسو، محمد جمن خاصخیلی، سید ایوب شاہ اور دیگر کی قیادت میں ملازمین نے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انہیں درپیش مسائل کا فوری حل نکالا جائے اور ان کے جائز حقوق فراہم کیے جائیں اس موقع پر یونین رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ ایگزیکٹو انجینئر (پروونشل) سلیم میمن محکمانہ امور میں مبینہ طور پر من پسند طریقہ کار اختیار کر رہے ہیں، جس کے باعث ملازمین کو مختلف مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ بیلداروں، ڈرائیوروں اور کلینرز کو تاحال وردیاں فراہم نہیں کی گئیں، جبکہ پٹہ والوں کو بھی نامکمل یونیفارم دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ داروغوں سے اوور ٹائم ڈیوٹی لی جا رہی ہے اور ملازمین کو ان کے دائرہ کار سے ہٹ کر غیر روایتی ذمہ داریاں بھی سونپی جا رہی ہیں۔ یونین رہنماؤں نے مزید الزام لگایا کہ فزیبلٹی رپورٹس، کراس سیکشن فوٹوگرافی، کوآرڈینیٹس اور پی سی ون سمیت مختلف تکنیکی نوعیت کے کام بھی ملازمین سے لیے جا رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ سرکاری روڈ رولرز اور گاڑیاں بغیر ڈیلی ریکارڈ (ڈی آر) کے مبینہ طور پر نجی افراد کے حوالے کی گئی ہیں، جبکہ بعض گاڑیوں سے سرکاری نمبر پلیٹیں ہٹا کر ذاتی استعمال میں لایا جا رہا ہے، جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔احتجاج کرنے والوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ مختلف سڑکوں کے منصوبوں کی ادائیگیوں میں ٹھیکیداروں کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کے ذریعے کروڑوں روپے کی کرپشن کی گئی ہے، جس کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔یونین رہنماؤں نے چیف جسٹس آف سندھ ، نیب ، چئیرمین آینٹی کریپشن ، وزیراعلی سندھ ، صوبائی وزیر روڈز اینڈ ورکس، سیکریٹری ورکس اینڈ سروسز، چیف انجینئر ہائی ویز حیدرآباد اور سپرنٹنڈنگ انجینئر سرکل میرپورخاص سے مطالبہ کیا کہ تمام معاملات کی فوری انکوائری کروا کر ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی اور آئندہ کا لائحہ عمل مزید سخت ہو سکتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button