دُکی سے اغوا 12 مزدوروں میں سے ایک قتل، لاش رحیم یار خان منتقل

کوئٹہ(جانوڈاٹ پی کے) بلوچستان کے ضلع دُکی سے اغوا کیے گئے 12 مزدوروں میں سے ایک کو مسلح افراد نے قتل کردیا، جبکہ مقتول کی لاش ضلع کوہلو سے برآمد ہونے کے بعد آبائی علاقے رحیم یار خان منتقل کردی گئی۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق دُکی پولیس حکام نے مزدور کے قتل کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مقتول کی شناخت شاہد کے نام سے ہوئی ہے، جس کا تعلق پنجاب کے ضلع رحیم یار خان سے تھا۔

پولیس کے مطابق شاہد کو گولی مار کر قتل کیا گیا اور اس کی لاش دُکی سے متصل ضلع کوہلو کے علاقے سے ملی۔ قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد میت آبائی علاقے رحیم یار خان روانہ کردی گئی۔

پولیس حکام کے مطابق 12 مزدوروں کو 25 ستمبر کی شب نامعلوم مسلح افراد نے ایک تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر حملے کے بعد اغوا کیا تھا، جن میں سے 10 مزدوروں کا تعلق پنجاب سے ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق مسلح افراد نے ضلع دُکی کے علاقے پلری میں شاہراہ کی تعمیر میں مصروف کمپنی کے کیمپ پر حملہ کیا۔ حملہ آوروں کی تعداد 30 سے 40 کے درمیان بتائی گئی ہے۔

حملے کے دوران کمپنی کا ایک نجی سکیورٹی گارڈ بھی ہلاک ہوا، جبکہ مسلح افراد نے کمپنی کی 4 گاڑیوں کو نذر آتش کرنے کے بعد 12 مزدوروں کو اپنے ساتھ لے گئے۔

واقعے کے بعد بلوچستان میں تعمیراتی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے کام کرنے والے مزدوروں کی سکیورٹی کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے، جبکہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کے باعث دونوں صوبوں میں بے چینی پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button