سندھ میں6معروف ادویات کے7بیچز جعلی قرار،سرکاری لیبارٹری میں مؤثراجزاغائب ہونےکاانکشاف

کراچی (جانو ڈاٹ پی کے)سندھ میں ادویات کی جانچ کرنے والی سرکاری تجربہ گاہ کی رپورٹس میں چھ معروف ادویات کے سات بیچز کو جعلی قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مختلف نمونوں میں مطلوبہ مؤثر اجزا موجود نہیں تھے، جس کے بعد متعلقہ دوا ساز کمپنیوں، ادویات کی تیاری اور ترسیل کے ذرائع کی جانچ پڑتال اور قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ویلوسیف، آگمینٹن، نو-سپا فورٹ، میوکین سسپنشن اور بریکسین کے مخصوص بیچز کے نمونے معیار پر پورا نہیں اترے، جبکہ قبض کے علاج کے لیے استعمال ہونے والے معروف شربت لیگزوبرون کے دو بیچز بھی جعلی قرار دیے گئے۔
رپورٹ میں ویلوسیف 500 ملی گرام کے بیچ نمبر LX3E میں اصل مؤثر جزو موجود نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی، جبکہ آگمینٹن 526 ملی گرام کے بیچ نمبر YT9D کو بھی جعلی قرار دیا گیا۔ نو-سپا فورٹ اور میوکین سسپنشن کے مخصوص بیچز کے نمونے بھی تجربہ گاہ کی جانچ میں ناکام رہے۔
جوڑوں کے درد کے لیے استعمال ہونے والی دوا بریکسین کے بیچ نمبر W6BC کا نمونہ بھی جعلی قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق لیگزوبرون شربت کے بیچ نمبر 46292 اور 43445 میں مؤثر جزو سوڈیم پیکوسلفیٹ موجود نہیں تھا۔
مارٹن ڈاؤ مارکر نے لیگزوبرون کے زیرِ اعتراض بیچز کی تیاری سے لاتعلقی ظاہر کی، جبکہ متعلقہ دوا ساز کمپنیوں نے بھی مخصوص بیچز کو اپنی تیار کردہ ادویات تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔
حکام کو ارسال کردہ رپورٹس میں ڈرگ ایکٹ 1976 کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ سرکاری تجربہ گاہ نے رپورٹس سیکریٹری کوالٹی کنٹرول بورڈ سندھ کو بھیج دی ہیں، جبکہ ڈرگ انسپکٹر کراچی ساؤتھ کو بھی مزید کارروائی کے لیے رپورٹ ارسال کردی گئی ہے۔



