روحوں سے رابطے کے’ڈیجیٹل پورٹل’اے آئی اور غیبی دنیا کاپراسرار ٹکراؤ!

​تھامس چیٹرٹن ولیمز(انگریزی سے ترجمہ)

(تعارف: تھامس چیٹرٹن ولیمز ایک نامور امریکی مصنف، ثقافتی نقاد اور نامی گرامی جریدے ‘دی اٹلانٹک’ کے مستقل لکھاری ہیں۔ وہ دو مشہور کتابوں کے مصنف ہیں اور ان کی تحریریں زیادہ تر جدید ٹیکنالوجی، ثقافت، فلسفے اور معاشرتی رجحانات کے فکری تجزیے پر مبنی ہوتی ہیں۔ وہ پیرس انسٹی ٹیوٹ آف پولیٹیکل اسٹڈیز میں وزٹنگ پروفیسر بھی رہ چکے ہیں اور دورِ حاضر کے ممتاز بین الاقوامی کالم نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔)

​ٹیک جائنٹس اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت انسانی تاریخ کی اب تک کی سب سے ترقی یافتہ ٹیکنالوجی ہے۔ گوگل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سندر پچائی تو یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ اس کا ظہور آگ کی دریافت یا بجلی کی ایجاد سے بھی زیادہ گہری اہمیت رکھتا ہے۔ معروف سرمایہ کار اور کاروباری شخصیت مارک اینڈریسن نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت ’’شاید انسانی تاریخ کی سب سے انقلابی ٹیکنالوجی‘‘ ہے۔

​شاید ایسا ہی ہو، لیکن آج بھی بہت سے لوگ اس ٹیکنالوجی کو فحش مواد اور بلیوں کی ویڈیوز بنانے جیسے کاموں کے لیے استعمال کر رہے ہیں، یعنی ایسے کام جن سے زندگی میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آتی۔ بعض حوالوں سے مصنوعی ذہانت کے استعمالات الٹا رجعت پسند محسوس ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ روحانیت, جسے طویل عرصے سے قدیم ثقافتوں اور مافوق الفطرت تصورات سے جوڑا جاتا رہا ہے، اب ’’ڈیتھ بوٹس‘‘ کے ذریعے نئی زندگی حاصل کر رہی ہے۔ یہ نظام زندہ افراد کو اپنے فوت شدہ عزیزوں کی تقریباً ہو بہو ڈیجیٹل نقل سے گفتگو کرنے کی سہولت دیتے ہیں۔

​جدیدیت اور غیبی یا مابعد الطبیعاتی تصورات کا یہ امتزاج پہلی مرتبہ سامنے نہیں آیا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ تقریباً دو صدی قبل جب ایسی ٹیکنالوجیز منظر عام پر آئیں جنہوں نے انسانی زندگی کا دھارا بدل دیا، تو ردعمل بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ مثال کے طور پر ذرا اُس لمحے کا تصور کیجیے جب انسان نے پہلی بار ایک ایسی حیران کن ایجاد کا سامنا کیا جس کا نام ٹیلی گراف تھا۔

​اس آلے کا بنیادی تصور انیسویں صدی کے اوائل میں سامنے آیا، جب سائنس دان برقی مقناطیسی مظاہر کی خصوصیات کو سمجھنا شروع ہوئے۔ 1830 کی دہائی میں سیموئیل ایف بی مورس اور الفریڈ ویل نے ٹیلی گراف کا ایک عملی نمونہ تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ یہ نظام ایک ایسے ترسیلی آلے پر مشتمل تھا جس میں موجود بیٹری تار کے ذریعے برقی نبضیں بھیجتی تھی، جبکہ دوسری جانب موجود وصولی آلے میں ایک مقناطیسی سوئی نصب تھی جو برقی رو کی موجودگی یا عدم موجودگی کے مطابق حرکت کرتی تھی۔

​جب ترسیلی آلہ چلانے والا شخص سرکٹ کے کھلے رہنے کے دورانیے میں تبدیلی کرتا تو وصول کنندہ طویل اور مختصر اشاروں میں فرق کر سکتا تھا۔ یہی دوہرا نظام بعد میں مورس کوڈ کے مشہور ’’نقطوں اور لکیروں‘‘ کی بنیاد بنا۔ حروفِ تہجی کے ہر حرف کے لیے نقطوں اور لکیروں کا ایک مخصوص سلسلہ مقرر کیا گیا، اور یوں مورس اور ویل نے وسیع فاصلوں کے باوجود فوری رابطے کا ایک مؤثر ذریعہ ایجاد کر لیا۔

​1844 میں دونوں نے ٹیلی گراف کا عوامی مظاہرہ کیا۔ صرف دو برس کے اندر ٹیلی گراف کی تاریں لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے لگیں۔ سینیٹر جان سی کالہون اس بات سے متاثر ہوئے کہ کس طرح ’’جادوئی تاریں‘‘ زمین پر ہر سمت پھیل رہی ہیں اور ایک پراسرار نیٹ ورک تشکیل دے رہی ہیں۔ اس دور میں ٹیلی گراف کو بیان کرنا بھی مشکل تھا، بالکل آج کی مصنوعی ذہانت کی طرح، اور اس کے لیے مافوق الفطرت زبان زیادہ موزوں محسوس ہوتی تھی۔

​1848 میں نیویارک کے شمالی علاقے میں دو کم عمر بہنوں، کیٹ اور میگی فاکس، نے دعویٰ کیا کہ وہ پراسرار دستکوں کے ذریعے روحوں سے رابطہ کر رہی ہیں۔ یہ دعویٰ جلد ہی ایک وسیع عوامی تحریک میں بدل گیا، جس نے امریکہ اور بعد ازاں انگریزی بولنے والی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

​لاکھوں لوگ اس یقین پر آ گئے کہ مردوں سے گفتگو ممکن ہے۔ روحانیت کے مبلغ اینڈریو جیکسن ڈیوس نے کہا کہ مردوں سے بات کرنا اتنا ہی سادہ ہے جتنا ٹیلی گراف کے ذریعے پیغام بھیجنا۔ اسی طرح اپولوس مون نے بھی روحانی دستکوں اور مورس کوڈ کے درمیان مماثلت پیش کی، جہاں روحوں کے اشارے حروفِ تہجی کی علامت بن جاتے ہیں۔

​اس تصور نے ’’آسمانی ٹیلی گراف‘‘ کا نظریہ جنم دیا، جس کے مطابق مقناطیسی ٹیلی گراف کی طرح روحانی دنیا بھی زندہ اور مردہ کو جوڑ سکتی ہے۔ یہاں تک کہ فرینکلن اور واشنگٹن جیسے تاریخی کرداروں کو بھی روحانی نشستوں میں بلانے کے دعوے کیے گئے۔

​دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ رجحان صرف عام لوگوں تک محدود نہ رہا بلکہ انجینئرز اور سائنسی ماہرین بھی اس میں شامل رہے۔ فوٹوگرافی نے ’’بھوتی تصویروں‘‘ کو جنم دیا اور ٹیلی فون نے بھی اسی طرح کے تصورات کو تقویت دی۔ آج مصنوعی ذہانت اسی تاریخی سلسلے کی تازہ ترین کڑی نظر آتی ہے۔

​آخر میں یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ کیا انسان واقعی صرف ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہا ہے، یا ہر نئی ایجاد کے ساتھ اپنے اندر موجود اسرار اور ماورائیت کو بھی دوبارہ زندہ کر رہا ہے؟

مزید خبریں

Back to top button