ستسنگ پر حملہ کیس:ملزم گرفتار نہ ہونے پر ننگرپارکر میں انجینئر گیانچند کی قیادت میں دھرنا

تھرپارکر(رپورٹ : میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) تھرپارکر ضلع کے تحصیل ننگرپارکر کے گاؤں کھارسر میں ستسنگ کی تقریب پر ٹھکر برادری کی جانب سے حملے، خواتین اور بچوں پر تشدد کے واقعے کے بعد 6 نامزد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے باوجود ان کی عدم گرفتاری کے خلاف میگھواڑ برادری نے ننگرپارکر میں انجینئر گیانچند کی قیادت میں بڑا احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دیا۔ دھرنے کے مقام پر ایس ایچ او ننگرپارکر نے پہنچ کر مظاہرین سے مذاکرات کی کوشش کی، تاہم احتجاجی شرکاء نے دھرنا ختم کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ جب تک ایف آئی آر میں نامزد تمام ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاتا، احتجاج جاری رہے گا۔ متاثرہ فریق کی حمایت کرنے پر مبینہ طور پر ٹھکر برادری کے بعض افراد نے دوبارہ حملہ کیا، جس میں سماجی کارکن موہن لال کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ادھر ایف آئی آر کے مدعی ہمتھو ولد گنیشو میگھواڑ اپنے رشتہ داروں، سماجی کارکنوں اور شہریوں کے ہمراہ ننگرپارکر پہنچے اور دھرنا دیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق ضلعی صدر انجنیئر گیان چند تھارانی نے بھی دھرنے میں شرکت کر کے حمایت کا اعلان کیا اور خود بھی احتجاج میں بیٹھ گئے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ پونم سنگھ، پریم سنگھ، ام سنگھ، ہمیر سنگھ بھوم سنگھ اور کارو ولد ہیمراج کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی تہوار میں رکاوٹ ڈال کر خواتین اور بچیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب کارسر واقعے کے خلاف کنری، ٹنڈو جام محمد، جھڈو اور نئون کوٹ میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور دھرنے دیے گئے۔



