کلوئی اسپتال میں او پی ڈی کے دوران عمارت کی چھت کے ٹکڑے گر پڑے، مریض اور ڈاکٹر معجزانہ طور پر محفوظ، کسی بھی وقت بڑے سانحے کا خدشہ

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) تھرپارکر کی تحصیل کلوئی میں پی پی ایچ آئی تھرپارکر کے زیرِ انتظام چلنے والے بی ایچ یو پلس اسپتال کی عمارت کی چھت کے ٹکڑے او پی ڈی کے دوران اچانک گر پڑے، جس کے باعث اسپتال میں موجود مریض اور ڈاکٹر معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ واقعے کے بعد اسپتال کی خستہ حال عمارت اور مریضوں و طبی عملے کی زندگیوں کو لاحق خطرات پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق بی ایچ یو پلس کلوئی میں روزانہ 500 سے 700 مریضوں کی او پی ڈی ہوتی ہے، جبکہ اسپتال کی عمارت کی چھت کے ٹکڑے مختلف مقامات سے گر رہے ہیں۔ شہری نصراللہ لشکری کا کہنا ہے کہ اسپتال کی مرمت کے کام کی منظوری کے باوجود ٹھیکیدار نے تاحال کام شروع نہیں کیا، جس کے باعث مریض شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ نصراللہ لشکری نے الزام عائد کیا کہ پی پی ایچ آئی تھرپارکر اسپتالوں کی بنیادی سہولیات اور عمارتوں کی مرمت پر توجہ دینے کے بجائے صرف کاغذی کارروائی اور اعداد و شمار پورے کرنے میں مصروف ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ نگرپارکر کے افسوسناک سانحے کے بعد کلوئی اسپتال کی خستہ حالت بھی کسی بڑے انسانی سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔ بی ایچ یو پلس کلوئی کے ایم ایس ڈاکٹر رئیس احمد خان جونیجو نے بتایا کہ اسپتال کی عمارت کی خراب حالت کے حوالے سے پی پی ایچ آئی تھرپارکر اور ڈپٹی کمشنر تھرپارکر کو متعدد بار تحریری طور پر آگاہ کیا جا چکا ہے، لیکن اس کے باوجود کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عمارت کی چھت کے ٹکڑے روزانہ گر رہے ہیں، جبکہ مرمتی کام منظور ہونے کے باوجود تاحال شروع نہیں ہو سکا۔شہریوں اور اسپتال انتظامیہ نے ڈپٹی کمشنر تھرپارکر اور پی پی ایچ آئی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اسپتال کی عمارت کا معائنہ کرایا جائے اور ہنگامی بنیادوں پر مرمتی کام شروع کیا جائے تاکہ مریضوں، ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کی زندگیاں کسی ممکنہ حادثے سے محفوظ رہ سکیں۔

مزید خبریں

Back to top button