ہمالیہ سے اونچا، گوادر سے گہرا بحرِ ہند کا نیا سلطان؛ سی پیک پر غیر ملکی شکوک و شبہات کا پوسٹ مارٹم!

ارسلان وڑائچ

​ہمارے ہائی ویز، گوادر کی گہری بندرگاہ اور پاور پلانٹس کو باہر بیٹھے کچھ ماہرین محض "خیالی پلاؤ” (Pipe Dreams) قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ خنجراب کے دشوار گزار پہاڑی راستوں سے لے کر بلوچستان کے تپتے صحراؤں تک، پائپ لائنیں بچھانا اور مال بردار گاڑیوں کے نیٹ ورک کو بلاتعطل چلانا ایک ایسا چیلنج ہے جس کی معاشی قیمت شاید اس کے فائدے سے زیادہ ہو۔ جب بھی سی پیک اور گوادر کے عظیم الشان خوابوں کو مغربی عینک لگا کر یا یورپی تھنک ٹینکس کے مخصوص زاوئیے سے دیکھا جاتا ہے تو ان کے ہاں ایک خاص قسم کا پولیٹیکل تذبذب، خوف اور شکوک و شبہات کی گہری دھند صاف دکھائی دیتی ہے۔ باہر بیٹھے نام نہاد دانشور اکثر یہ راگ الاپتے نظر آتے ہیں کہ یہ سارا منصوبہ ریت کی دیوار ہے لیکن وہ اسے محض ایک خیالی پلاؤ ثابت کرنے کے لیے اپنے تمام تر دلائل کا زور لگاتے ہوئے ایک ایسا بنیادی اور تاریخی نکتہ مکمل طور پر نظر انداز کر جاتے ہیں جو اس پورے کھیل کی اصل روح ہے۔ چین اور پاکستان کا یہ جوڑ صرف نفع نقصان کے روایتی حساب کتاب کا نام نہیں ہے بلکہ یہ وقت کی لہروں سے تراشا گیا ایک فولادی اتحاد ہے جس کی جڑیں دونوں ملکوں کے جغرافیائی اور تزویراتی مفادات میں بہت گہری پیوست ہیں۔

​مغربی تجزیہ کاروں کا اصل درد اور ان کی راتوں کی نیندیں اڑنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ اس پورے منصوبے کو صرف جیو-اکنامکس یعنی معاشی فائدے کے ترازو میں تولنے کی نااہل کوشش کرتے ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ روایتی بحری راستوں کے مقابلے میں پاکستان کے راستے زمینی نقل و حمل چین کو بہت مہنگی پڑے گی مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ بساط معاشی نفع نقصان سے کہیں اوپر جیو-پولیٹکس یعنی جغرافیائی سیاست کی ہولناک جنگ کے لیے بچھائی گئی ہے۔ چین کے لیے گوادر کا مطلب صرف ایک بندرگاہ نہیں بلکہ آبنائے ملاکا کے اس روایتی، تنگ اور شدید خطرناک بحری راستے پر اپنی انحصار کو یکسر کم کرنا ہے جہاں اس کے عالمی مخالفین جب چاہیں اس کی معاشی شہ رگ پر انگلی رکھ کر اس کا دم گھٹ سکتے ہیں۔ گوادر میں چین کی مستقل اور مضبوط موجودگی بحرِ ہند کے گرم پانیوں میں ایک ایسی اسٹریٹجک پوزیشن قائم کر رہی ہے جو آنے والے وقت میں خطے کا پورا پاور بیلنس اور طاقت کا توازن ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دے گی اور یہی وہ سچ ہے جو دنیا کی موجودہ سپر پاورز کو ہضم نہیں ہو رہا۔

​مانا کہ ہمالیہ کے بلند و بالا پہاڑوں کو چیرنا، سڑکوں کا جال بننا اور خطے کے پیچیدہ سیکورٹی حالات سے نمٹنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب اسٹریٹجک مفادات فولادی اور ارادے پختہ ہوں تو پھر جغرافیے کو بھی جھکنا پڑتا ہے اور راستے خود بخود نکل آتے ہیں۔ کچھ مخصوص بین الاقوامی حلقوں میں جان بوجھ کر یہ تاثر بھی ابھارا جاتا ہے کہ پاکستان کی اندرونی سیکورٹی کی صورتحال اور معاشی مشکلات اس عظیم منصوبے کو نگل جائیں گی اور اسے کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گی۔ یہ بات درست ہے کہ ہمیں اپنے اندرونی حالات، معاشی پالیسیوں اور سیکورٹی کے نظام کو فول پروف بنانا ہے اور اس سفر میں ہم سے کئی جگہوں پر سستیاں اور غلطیاں بھی ہوئیں لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ یہ پورا ڈھانچہ کوئی ریت کی دیوار ہے جو ایک ہی جھٹکے سے گر جائے گا۔ جس چیز کو دنیا کا میڈیا بحران اور ناکامی کہتا ہے وہ دراصل ایک ابھرتی ہوئی علاقائی طاقت کا پیدائشی درد ہے جو ہر بڑے انقلاب سے پہلے محسوس کیا جاتا ہے۔ بیجنگ اور اسلام آباد کا یہ لازوال اتحاد کسی عارضی حکومت کے آنے جانے یا چند ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کا مرہونِ منت نہیں ہے بلکہ یہ آنے والی کئی دہائیوں کی وہ اسٹریٹجک ساجھے داری ہے جس پر دونوں ممالک کی بقا, خودمختاری اور ترقی کا دارومدار ہے۔

​چنانچہ جب باہر کے مبصرین بڑے طمطراق سے یہ لکھتے ہیں کہ سی پیک محض ایک جیو پولیٹیکل مہم جوئی ہے جس کے بڑے بڑے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے تو وہ دراصل جان بوجھ کر تصویر کا صرف ایک رخ دیکھ رہے ہوتے ہیں اور دنیا کو بھی وہی دکھانا چاہتے ہیں۔ ہمارے لیے اور اس پورے خطے کے پسے ہوئے عوام کے لیے یہ صرف عام سی سڑکیں، ریلوے ٹریکس یا تیل کی پائپ لائنیں نہیں ہیں بلکہ یہ اس خطے میں صدیوں پرانی مغربی اجارہ داری کے باقاعدہ خاتمے اور ایک نئے، خود مختار اور طاقتور بلاک کی تشکیل کا حتمی آغاز ہے۔ سامنے کھڑے چیلنجز یقیناً بہت بڑے اور کٹھن ہیں لیکن اس عالمی کھیل میں داؤ پر لگی رقم، جیو پولیٹیکل ساکھ اور دونوں ملکوں کا مستقبل اتنا عظیم ہے کہ اب یہاں سے پیچھے ہٹنے کا آپشن کسی کے پاس بھی موجود نہیں ہے۔ یہ خواب اب ادھورا نہیں رہے گا کیونکہ اس کی تعبیر کے ساتھ ہی ابھرتی ہوئی نئی دنیا کی تاریخ لکھی جا رہی ہے اور دشمنوں کے پروپیگنڈے اس طوفان کا راستہ نہیں روک سکتے۔

مزید خبریں

Back to top button