چین سے30ارب یوان کی سہولت میں توسیع کا فیصلہ،امریکا سے10ارب ڈالر پر جواب2ماہ میں متوقع

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) پاکستان نے چین سے حاصل کردہ 30 ارب یوان کی کرنسی سوئپ سہولت میں توسیع مانگنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جبکہ امریکا سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت کی درخواست پر بھی آئندہ دو ماہ میں جواب متوقع ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان 2027 میں چین سے 30 ارب یوان کی سوئپ سہولت میں توسیع کی درخواست کرے گا۔ ان کے مطابق چین کی 30 ارب یوان کی مکمل کرنسی سوئپ سہولت استعمال ہوچکی ہے اور اس کی تجدید کے موقع پر اضافی مالی معاونت کی باضابطہ درخواست بھی کی جائے گی۔

محمد اورنگزیب نے بتایا کہ امریکا سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت پر دو ماہ میں جواب متوقع ہے۔ پاکستان ایگزم بینک اور ڈی ایف سی سے بھی مالی معاونت کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق ایگزم فنانسنگ سے پی آئی اے کے بوئنگ طیاروں کی خریداری میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ ڈی ایف سی سے آئل ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کے 5 ارب ڈالر کے پروگرام میں معاونت متوقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کا دیرینہ اسٹریٹجک شراکت دار ہے جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ قیادت کی سطح پر بھی اچھی سمجھ بوجھ اور تعلقات ہیں۔

محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ پاکستان کے پاس ستمبر تک ضرورت پوری کرنے کے لیے تیل کے وافر ذخائر موجود ہیں، اکتوبر کے لیے بھی ملک بہتر پوزیشن میں ہے جبکہ نومبر کے لیے تیل کی فراہمی کی منصوبہ بندی شروع کردی گئی ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ فی الحال حکومت کا مزید آئی ایم ایف قرض لینے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ ان کے مطابق معاشی صورتحال قابلِ انتظام ہے اور آئی ایم ایف مشن آئندہ ہفتے پاکستان کے 7 ارب ڈالر پروگرام کا جائزہ لے گا، جبکہ مقداری اہداف کے حوالے سے پاکستان اچھی پوزیشن میں ہے اور ساختی اہداف پر بھی بڑی حد تک عمل درآمد ہوچکا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button