روس سے تیل خریدنے والوں پر شکنجہ،ٹرمپ کوبھارت اور چین سمیت ممالک پر100فیصد تک ٹیرف کا اختیار

واشنگٹن(جانو ڈاٹ پی کے)امریکا نے روس سے تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر معاشی دباؤ بڑھانے کی جانب بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ’لنڈسے او گراہم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ 2026‘ منظور کرلیا ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان نے بل 262 کے مقابلے میں 159 ووٹوں سے منظور کیا، جبکہ امریکی سینیٹ اس کی منظوری پہلے ہی دے چکی ہے۔ اب بل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کے لیے بھیجا گیا ہے۔
قانون کے تحت صدر ٹرمپ کو روسی تیل اور قدرتی گیس خریدنے والے ممالک، جن میں بھارت اور چین بھی شامل ہیں، پر مخصوص شرائط کے تحت ان کی امریکی درآمدات پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ قانون خود بھارت یا چین کی تمام مصنوعات پر فوری طور پر 100 فیصد ٹیرف عائد نہیں کرتا، بلکہ صدر کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ اس کا استعمال کریں یا نہ کریں۔
قانون کا مقصد روس کے توانائی اور دفاعی شعبوں پر معاشی دباؤ بڑھانا اور ماسکو کی آمدنی کو محدود کرنا ہے۔ اس میں روسی قیادت، توانائی کے شعبے اور پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے مبینہ ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف بھی اقدامات شامل ہیں۔ قانون میں ایران کے خلاف اضافی پابندیوں کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔
بھارت کا ردعمل
امریکی قانون پر بھارت نے کہا ہے کہ وہ صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے اور اپنی توانائی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف ذرائع سے تیل کی خریداری جاری رکھے گا۔
بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق نئی دہلی نے حالیہ مہینوں کے دوران امریکی حکام کے ساتھ اس معاملے پر بات چیت کی ہے اور دوطرفہ تعلقات اور عالمی توانائی کی منڈی پر ممکنہ اثرات سے متعلق اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔ بھارت نے اپنے تجارتی اور معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔
بھارت دنیا کے بڑے تیل درآمد کنندگان میں شامل ہے اور روسی خام تیل اس کی توانائی درآمدات کا اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ بھارتی ریفائنرز نے ستمبر اور اکتوبر کے لیے روسی خام تیل سمیت دیگر سپلائی کا انتظام بھی کیا ہوا ہے۔
امریکی اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن روسی توانائی کی خریداری کے ذریعے ماسکو کو حاصل ہونے والی آمدنی محدود کرنے کے لیے بھارت، چین اور دیگر بڑے خریداروں پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔



