ٹرمپ کی خلیجی رہنماؤں سے اہم ملاقات،ایران جنگ کے بعد کی حکمتِ عملی پر غور ہوگا

نیویارک (جانو ڈاٹ پی کے)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر خلیج تعاون کونسل (GCC) کے رکن ممالک کے رہنماؤں اور وزرائے خارجہ سے اہم ملاقات کریں گے، جس میں ایران جنگ کے اگلے مرحلے اور جنگ کے بعد کی حکمتِ عملی پر مشاورت متوقع ہے۔
امریکی ویب سائٹ Axios نے تین باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ اجلاس 22 ستمبر کو نیویارک میں ہونے کا امکان ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے خلیجی ممالک کو ابتدائی دعوت نامے بھیجے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
اجلاس میں خلیج تعاون کونسل کے تمام 6 رکن ممالک، یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان کے رہنماؤں یا وزرائے خارجہ کی شرکت متوقع ہے۔
رپورٹس کے مطابق دیگر عرب اور مسلم ممالک کے رہنماؤں کو بھی اجلاس میں شامل کیے جانے کا امکان موجود ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
ملاقات میں صرف جنگ بندی کے معاملات زیر بحث آنے کے بجائے امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران جنگ کے بعد کے علاقائی انتظامات اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر بھی خلیجی ممالک سے مشاورت متوقع ہے۔ Axios کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ جنگ کے بعد کے منصوبے پر کام کر رہی ہے، جسے نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد حتمی شکل دیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
عمان میں امریکا اور حوثیوں کے درمیان خفیہ رابطہ
دوسری جانب رائٹرز کے مطابق امریکی حکام نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر عمان کے دارالحکومت مسقط میں حوثی نمائندوں سے ایک خفیہ ملاقات بھی کی۔ پانچ باخبر ذرائع کے مطابق ملاقات امریکی سفارتخانے میں ہوئی اور عمان نے رابطے میں سہولت فراہم کی۔
رپورٹ کے مطابق حوثی نمائندوں نے امریکی حکام کو یقین دہانی کرائی کہ وہ امریکی اور اسرائیلی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں رکھتے اور 2025 کے جنگ بندی معاہدے پر قائم رہنے کی بات کی۔
ذرائع کے مطابق حوثیوں نے دیگر تجارتی جہازوں کو بھی نشانہ نہ بنانے کی یقین دہانی کرائی، تاہم سعودی بحری جہازوں کو اس یقین دہانی سے مستثنیٰ رکھنے کی اطلاعات ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ملاقات کی تصدیق نہیں کی، تاہم بحیرہ احمر میں بحری سلامتی کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں ایران جنگ، آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں بحری نقل و حرکت سے متعلق کشیدگی برقرار ہے، جبکہ سعودی عرب نے حوثی پیش قدمی کے تناظر میں امریکی حمایت بھی طلب کی ہے۔



