چھپ شورو (Chap Shuro)

ایمل سفیان
گلگت بلتستان کے پہاڑی سلسلوں کی بات کی جائے تو وہاں کی خوبصورت وادیوں کے ساتھ ساتھ وہاں کے منفرد روایتی کھانے بھی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔ انہی میں سے ایک شاہانہ اور بے حد مقبول پکوان چھپ شورو (Chap Shuro) ہے، جسے عموماً "ہنزہ کا پیزا” یا "لوکل پیزا” بھی کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل ایک بند روٹی ہوتی ہے جس کے اندر مصالحے دار قیمہ بھرا جاتا ہے، اور پھر اسے روایتی طریقے سے پکا کر گرما گرم پیش کیا جاتا ہے۔
مقامی بروشسکی زبان میں اس کے نام کے اجزاء اس کی حقیقت کو یوں بیان کرتے ہیں:
چھپ (Chap) = گوشت
گنشو (Gunsho) = پیاز
شورو (Shoro) = روٹی
چھپ شورو کی ابتدا کے حوالے سے کوئی حتمی تاریخی دستاویز موجود نہیں، تاہم روایات کے مطابق اس کی شروعات تھولے نگر (Thole Nagar) کے علاقے سے ہوئی اور یہ صدیوں سے اس خطے کا حصہ چلا آ رہا ہے۔ آج ہنزہ اور تھولے نگر دونوں ہی اس لذیذ ڈش کو اپنی ثقافت کا فخر مانتے ہیں۔ ہنزہ وادی میں واقع سات سو سالہ قدیم بالٹت قلعہ کے آس پاس آج بھی یہ مقامی کھانوں کے اسٹالز کی جان بنا ہوا ہے۔
تاریخی طور پر اس کی تیاری کا عمل کافی طویل اور محنت طلب ہوتا تھا۔ روایتی طور پر چھپ شورو کو پتھر کے تندور میں پکایا جاتا تھا، اور قیمے کو پہلے سے پکائے بغیر کچا ہی روٹی کی تہوں میں بھر دیا جاتا تھا، جس میں خاصا وقت لگ جاتا تھا۔ وقت کی کمی اور بدلتے ہوئے طریقوں کے ساتھ اب لوگ اسے چھوٹے سائز میں توے یا پین پر بھی تیار کرنے لگے ہیں، جو آج کل عام رائج ہے۔
ثقافتی اہمیت اور خصوصیات
یہ ڈش ہنزہ کی روایتی مہمان نوازی کا ایک اہم استعارہ ہے۔ مقامی لوگ اپنے مہمانوں کا استقبال عموماً نمکین یاک کی چائے (نوچی چائے) اور گرما گرم چھپ شورو سے کرتے ہیں۔ یہ سردیوں کی یخ بستہ شاموں، خاندانی تقریبات اور تہواروں کا لازمی حصہ ہے۔
اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ہنزہ وادی کی زرعی اور قدرتی فراوانی کی بھی عکاس ہے۔ پرانے وقتوں میں اسے خاص طور پر وادی کی پیداوار یعنی خالص اخروٹ یا خوبانی کے تیل میں پکایا جاتا تھا، جو جسم کو زبردست توانائی اور حرارت فراہم کرتا ہے۔
روایتی ترکیب (Recipe)
گھر میں ہنزہ کے اصل ذائقے کے ساتھ چھپ شورو تیار کرنے کا طریقہ درج ذیل ہے:
اجزاء:
آٹا: 2 کپ (گندم کا آٹا، نمک اور پانی سے گوندھا ہوا)
قیمہ: آدھا کلو (روایتی طور پر یاک یا بیف/مٹن کا باریک کٹا ہوا یا ہاتھ کا قیمہ)
پیاز: 2 عدد (باریک کٹے ہوئے)
ہری مرچیں: 3 سے 4 عدد (باریک کٹی ہوئی)
ہری جڑی بوٹیاں: تازہ دھنیا اور پودینہ (آدھا کپ، باریک کٹا ہوا)
ادرک لہسن کا پیسٹ: 1 کھانے کا چمچ
مصالحے: کٹی ہوئی لال مرچ (1 چائے کا چمچ)، زیرہ اور دھنیا پاؤڈر (ایک، ایک چائے کا چمچ)، کالی مرچ پاؤڈر (آدھا چائے کا چمچ)، اور نمک حسبِ ذائقہ
روغن: دیسی گھی، مکھن یا روایتی تیل (2 سے 3 کھانے کے چمچ)
بنانے کا طریقہ:
گندم کے آٹے میں نمک اور پانی شامل کرکے نرم آٹا گوندھ لیں اور 15 سے 20 منٹ کے لیے ڈھانپ کر رکھ دیں۔
ایک بڑے برتن میں قیمہ لیں اور اس میں باریک کٹے ہوئے پیاز، ہری مرچیں، ہرا دھنیا، پودینہ اور ادرک لہسن کا پیسٹ ملائیں۔ اب اس میں تمام مصالحے اور دیسی گھی یا تیل شامل کرکے اچھی طرح مکس کر لیں تاکہ مصالحے قیمے میں یکجان ہو جائیں۔
گوندھے ہوئے آٹے کے چھوٹے پیڑے بنا کر دو ایک جیسی پتلی روٹیاں بیل لیں۔ ایک روٹی کو نیچے رکھیں، اس پر تیار کردہ قیمے کا کچا آمیزہ پھیلا دیں (کناروں کو ہلکا خالی چھوڑیں)۔ اب دوسری روٹی اوپر رکھ کر کناروں کو اچھی طرح دبا کر بند (سیل) کر دیں تاکہ پکتے وقت قیمہ باہر نہ آئے۔
توے کو ہلکا گرم کریں، اس پر چھپ شورو ڈالیں اور دیسی گھی یا مکھن لگاتے ہوئے دھیمی آنچ پر ڈھکن دے کر پکائیں تاکہ اندر کا قیمہ اچھے سے گل جائے اور باہر سے روٹی کرسپی ہو جائے۔
اگر تندور یا اوون دستیاب ہو تو اسے سنہری اور خستہ ہونے تک بیک کر لیں۔
تیار ہونے پر اس کے سلائسز کاٹ لیں اور اسے پودینے کی چٹنی، دہی یا گرم گرم نمکین چائے کے ساتھ نوش فرمائیں۔



