فلو اب ہفتوں نہیں، گھنٹوں کا مہمان؛ جسم کے "کلر سیلز” ایکٹیو کرنے کا سائنسی پلان تیار!

راجہ نوید

عام نزلہ زکام اور فلو اب ہفتوں بستر پر لٹانے والی بیماری نہیں رہی، کیونکہ طبی سائنس نے انسانی جسم کے اندرونی دفاعی نظام کو ہلا کر رکھ دینے والا ایک ایسا سائنسی پلان تیار کر لیا ہے جو وائرس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

​طبی محققین اب اس بات پر متفق ہیں کہ نزلہ زکام سے نمٹنے کا سب سے مؤثر طریقہ باہر سے کیمیکلز یا مصنوعی گولیاں کھانے کے بجائے جسم کے اپنے ہی اندرونی فوجیوں کو بیدار کرنا ہے۔ انسانی جسم میں قدرتی طور پر "قاتل خلیات” یا نیچرل کِلر سیلز جنہیں ٹی سیلز بھی کہا جاتا ہے، موجود ہوتے ہیں، جنہیں اب جدید بائیو ٹیکنالوجی کے ذریعے اس طرح تربیت دی جا رہی ہے کہ وہ سانس کے راستے جسم میں گھسنے والے فلو وائرس کو اس کے ابتدائی سگنلز سے ہی پہچان لیں۔

​روایتی علاج ہمیشہ سے بخار، سر درد اور جسم کے ٹوٹنے جیسی ظاہری علامات کو دبانے پر توجہ دیتا آیا ہے، جب کہ یہ نیا پلان وائرس کو اس کے ماخذ ہی پر دبوچ لیتا ہے۔ جیسے ہی فلو کا جراثیم حملہ آور ہوتا ہے، یہ تربیت یافتہ خلیات برق رفتاری سے متحرک ہو کر وائرس زدہ بافتوں کو صاف کر دیتے ہیں، جس سے بیماری جسم میں پھیلنے سے پہلے ہی دم توڑ جاتی ہے۔ طبی دنیا اسے ایک ایسا انقلابی سنگِ میل قرار دے رہی ہے جہاں موسمی بیماریاں ہفتوں کی اذیت کے بجائے محض چند گھنٹوں کا قصہ بن کر رہ جائیں گی۔

مزید خبریں

Back to top button