پاکستان میں ورچوئل اثاثہ صارفین کی تعداد 4 کروڑ سے تجاوز کرگئی،بلال بن ثاقب

نیویارک (جانو ڈاٹ پی کے) چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ پاکستان میں ورچوئل اثاثہ صارفین کی تعداد 4 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔
اقوام متحدہ کے سوشل بزنس، یوتھ اینڈ ٹیکنالوجی فورم سے خطاب کرتے ہوئے بلال بن ثاقب نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور ٹوکنائزیشن ترقی پذیر دنیا میں مالی شمولیت کے طاقتور ذرائع ثابت ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مالی شمولیت کے لیے صرف ٹیکنالوجی کافی نہیں بلکہ مؤثر نظام اور واضح قواعد و ضوابط بھی ضروری ہیں۔
چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق دنیا میں تقریباً 1.3 ارب نوجوان اب بھی مالیاتی نظام سے باہر ہیں، جبکہ مالیاتی نظام سے محروم تقریباً 90 کروڑ افراد کے پاس موبائل فون موجود ہے، جس سے ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کے فروغ کے وسیع امکانات پیدا ہوتے ہیں۔
بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے واضح ریگولیٹری فریم ورک قائم کردیا گیا ہے، جبکہ پاکستان ٹیکنالوجی کا محض صارف بننے کے بجائے اسے تخلیق اور ترقی دینے والا ملک بننا چاہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کرنا ہوگا اور مصنوعی ذہانت سمیت نئی ٹیکنالوجیز کو معاشی مواقع پیدا کرنے کے لیے بروئے کار لانا ہوگا۔



