بدین میں داخلہ اور فروخت سرٹیفکیٹ بکوں کی عدم دستیابی، شہری پریشان

بدین (رپورٹ مرتضیٰ / جانو ڈاٹ / پی کے)بدین میں زرعی زمینوں اور دیگر جائیدادوں کی خرید و فروخت سے متعلق داخلہ بک اور فروخت سرٹیفکیٹ بکوں کی عدم دستیابی کے باعث شہریوں، کھاتیداروں اور سرمایہ کاروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ شہریوں کا الزام ہے کہ کئی ماہ سے جاری اس صورتحال کے باعث جائیدادوں کی خرید و فروخت اور سرکاری ریکارڈ میں قانونی داخلوں کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بدین، پاٹار، سونہرا اور دیگر تپوں میں داخلہ بکیں بروقت جاری نہ ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ شہریوں کے مطابق اس کے باعث زمینوں اور دیگر جائیدادوں کے معاملات التوا کا شکار ہیں جبکہ بعض افراد کی سرمایہ کاری اور خرید و فروخت کی رقوم بھی مختلف معاملات میں پھنسی ہوئی ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ طویل تاخیر کے باعث بعض جائیدادوں کے سودے منسوخ ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔
ایک کھاتیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ بیرون ملک مقیم ہونے کے باوجود بدین میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، تاہم داخلہ بکوں کی عدم دستیابی اور نئے بکوں کے بروقت اجرا نہ ہونے سے زمینوں سمیت دیگر جائیدادوں کی خرید و فروخت میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے سرمایہ کاروں اور زمین مالکان کو مالی نقصان کے ساتھ علاقے کی کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
شہریوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ داخلوں میں تاخیر سے حکومت کو رجسٹریشن اور دیگر متعلقہ ٹیکسوں کی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق معاملے کے فوری حل کے لیے بورڈ آف ریونیو اور ضلعی انتظامیہ کو اقدامات کرنے چاہئیں۔
دوسری جانب شہریوں اور کھاتیداروں کی جانب سے تپہ بدین میں تعینات تپیدار ایاز جونیجو کے حوالے سے بھی شکایات سامنے آئی ہیں۔ شہریوں کا الزام ہے کہ وہ طویل عرصے سے اسی علاقے میں تعینات ہیں اور مختلف ریونیو معاملات میں مبینہ طور پر شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ جائز کاموں کے عوض بھاری رقم طلب کیے جانے کی بھی شکایات کی گئی ہیں۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
ریونیو محکمے کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک زیرسماعت مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ عدالت کی جانب سے طلب کردہ رپورٹ میں مبینہ طور پر اصل حقائق کے برعکس معلومات پیش کی گئیں۔ اہلکار کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات ضلعی سطح پر زیر التوا ہیں۔ اس دعوے کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
ذرائع کے مطابق سرکاری داخلہ اور فروخت سرٹیفکیٹ بکوں کے ختم ہونے کے بعد نئی بکیں بورڈ آف ریونیو حیدرآباد سے جاری کی جاتی ہیں۔ شہریوں اور ذرائع کا الزام ہے کہ نئی بکوں کے اجرا اور مختلف ریونیو معاملات میں مبینہ طور پر غیرقانونی رقوم وصول کی جاتی ہیں۔ ذرائع نے مزید دعویٰ کیا کہ مقررہ مبینہ رقم متعلقہ سطح تک نہ پہنچنے کے باعث بعض تپوں میں نئی بکوں کا اجرا متاثر ہوا ہے۔ ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ریونیو ذرائع نے بعض افسران اور ملازمین کی طویل عرصے سے ایک ہی عہدوں یا اضافی چارجز پر تعیناتی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بعض کم گریڈ ملازمین کو اعلیٰ عہدوں کے اضافی چارج دیے گئے ہیں، جس کے باعث سینئر ملازمین میں بھی تحفظات پائے جاتے ہیں۔
شہریوں نے سندھ حکومت، محکمہ ریونیو کے متعلقہ حکام اور اعلیٰ انتظامی افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ داخلہ اور فروخت سرٹیفکیٹ بکوں کے اجرا میں تاخیر، مبینہ رشوت ستانی، افسران و ملازمین کی طویل تعیناتی اور اضافی چارجز کے معاملات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔
شہریوں کا مطالبہ ہے کہ اگر تحقیقات میں کسی افسر یا اہلکار کے خلاف الزامات ثابت ہوں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور زمینوں کی خرید و فروخت سے متعلق زیرالتوا معاملات فوری طور پر نمٹائے جائیں۔ شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔



