بدین: تین روز ماہی گیر میلہ،بھارت کی قید میں موجود پاکستانی ماہی گیروں کی رہائی کا مطالبہ

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)پاکستان فشر فوک فورم کی جانب سے بدین کے ساحلی علاقے میں تین روزہ ماہی گیر میلے کے موقع پر منعقدہ کانفرنس میں ماہی گیروں کے مسائل اور مشکلات کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت کی قید میں موجود پاکستانی ماہی گیروں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

اس موقع پر فشر فوک فورم کے مرکزی صدر مہران علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماہی گیر آج بھی ضروری سہولتوں اور بنیادی حقوق سے محروم ہیں وفاقی اور صوبائی حکومتیں ماہی گیروں کو محنت کش کا درجہ دینے کے لیے تیار نہیں، جس کی وجہ سے وہ مزدوروں کو ملنے والی سہولتوں اور مراعات سے بھی محروم ہیں انہو نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 73 کے تحت پاکستان یا بھارت کا کوئی بھی ماہی گیر اگر غلطی سے سمندری حد پار کر جائے تو اسے گرفتار نہیں کیا جا سکتا، اور اگر گرفتاری ہو بھی جائے تو دونوں ممالک کی حکومتیں پابند ہیں کہ وہ ماہی گیروں کو جلد از جلد رہا کریں۔ لیکن اس کے باوجود پاکستانی ماہی گیر بھارت کی جیلوں میں قید ہیں اور ان ماہی گیروں کے خاندان شدید پریشان ہیں۔

انہو نے بتایا کہ فشر فوک فورم ویوا ویلفیئر فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر ماہی گیروں کے حقوق، بنیادی سہولتوں، غذائی قلت کے خاتمے، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور دیگر منصوبوں پر کام شروع کر رہا ہے، جس سے ماہی گیروں کو فائدہ پہنچے گا اس موقع پر سندھ اسمبلی کے رکن تاج محمد ملاح نے کہا کہ ماہی گیروں کو حقوق دلانے کے لیے سندھ حکومت نے سمندری پانیوں سے ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ کر کے انہیں مچھلی اور جھینگے کے شکار کا حق دیا ہے۔

پی پی ضلع جنرل سیکریٹری ڈاکٹر سجاد چانڈیو نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کارڈ کے ذریعے ماہی گیروں کو روزگار کا تحفظ دیا گیا ہے۔ ماہی گیر ہمارے اپنے لوگ ہیں، ان کے مسائل حل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی اس موقع پر پریس کلب کے سابق صدر تنویر احمد آرائیں، فشر فوک فورم سندھ کے صدر محمد ملاح، رمضان ملاح، آلہ بچایو ملاح محمد عمر ملاح، رحیم چنڈانی اور ساجن شیخ نے کہا کہ جدید دور میں بھی ماہی گیر صحت، تعلیم، خوراک اور صاف پانی کی کمی کا شکار ہیں، جبکہ سمندری علاقوں میں سرحدیں واضح نہ ہونے اور حفاظتی اقدامات کی کمی کے باعث ماہی گیر جان کے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں کانفرنس میں منظور کی گئی قراردادوں کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ ساحلی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر و ترقی، ماہی گیروں کے بنیادی حقوق کی بحالی، لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین کی تباہ کاریوں کو روکنے، آبی حیات کو درپیش خطرات اور ماحولیاتی تباہی کے سدباب کے لیے سندھ اور وفاقی حکومت اقدامات کریں ماہیگیر میلے اور کانفرنس کے اختتام پر سندھ کے نامور فنکار استاد کریم کچھی نے فن کا مظاہرہ کیا، جبکہ کراچی سے آئے ہوئے ماہی گیر بچوں نے مختلف قومی اور انقلابی گیت، خاکے اور طبلہ پیش کر کے خوب داد وصول کی۔

مزید خبریں

Back to top button