آزدکشمیر الیکشن میں’’تیربمقابلہ شیر‘‘دھاندلی الزامات کی بوچھاڑ،بلاول تپ گئے،لیگی وزراکے بھی جوابی وار
بلاول بھٹو زرداری نے جیالے کی شہادت کا ملبہ ن لیگ پر ڈال دیا

لاہور(جانوڈاٹ پی کے)پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) ایک بار پھر آمنے سامنے،آزاد کشمیرالیکشن میں دھاندلی کے الزامات نے زور پکڑ لیا،وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے سندھ کے صوبائی وزرا شرجیل میمن،سعید غنی،پیپلزپارٹی کے صوبائی رہنما ندیم افضل چن اور سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی کے الزامات کومسترد کردیاہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے واضح الفاظ میں مسلم لیگ(ن) پر دھاندلی کے الزامات عائد کئے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے جیالے کی شہادت کا ملبہ ن لیگ پر ڈال دیا
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹوزرداری نے ایل اے 9 کوٹلی 2 نکیال میں جیالے کی شہادت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ اطلاع ہے کہ ن لیگ کے امیدوار کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔
بلاول بھٹو کا کہناتھا کہ میرپور نکیال میں میرا کارکن شہید ہو گیا،متعلقہ حکام کہاں ہیں؟ الیکشن کمیشن کیا کر رہا ہے؟ 2روز قبل بھی ن لیگ کے سردار عمیر کی فائرنگ کرنے کی ویڈیو آئی، متعلقہ حکام نوٹس لیتے تو آج انسانی زندگی کی قیمت ادا نہ کرناپڑتی، جیالا مختار یونس نکیال میں مؤثر انتخابی مہم چلا رہا تھا، شکست سے بوکھلا کر پیپلز پارٹی کے مخالفین اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔
مختلف حلقوں میں دھاندلی ہوئی ہے،راجہ پرویز اشرف
پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وزیر اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے مختلف حلقوں میں انتخابی بے ضابطگیاں تشویشناک ہیں۔راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ حلقہ چڑھوئی کے گل پور، تھروچی اور مہاجر کیمپ کے پولنگ اسٹیشن 15 سے 25 پر انتخابی عمل متاثر ہونے کی اطلاعات تشویشناک ہیں، الیکشن کمیشن پولنگ اسٹیشن 15 سے 25 کی صورتحال کا فوری نوٹس لے اور شفاف پولنگ یقینی بنائے۔
پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب کے رہنما ندیم افضل چن ،سندھ کے وزیر سعید غنی نے بھی اسلام آبادمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دھاندلی کے الزامات لگائے ہیں بلکہ دونوں رہنماؤں نے میاں نوازشریف کے بیان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
آج دوپہر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پیپلزپارتی کے رہنماؤں کو جواب دیا۔کہا ہے کہ مون سون سپیل سے نمٹنے کے لیے پنجاب حکومت نے پہلے ہی تیاری شروع کر دی تھی، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مون سون کے حوالے سے پانچ اجلاس بھی کیے ہیں۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ اس بار پری مون سون سپیل سخت رہا ہے، تاہم حکومت نے بارشوں کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیوریج لائنیں صاف ہوں گی تو شہروں میں تباہی کے مناظر پیدا نہیں ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ صوبے کے شہروں میں تقریباً 39 لاکھ سیوریج لائنوں کی صفائی کی گئی، جبکہ 723 واٹر ڈرینرز اور مین ہولز کو بھی صاف کیا گیا۔ صفائی کے دوران 6 لاکھ 59 ہزار ٹن مٹی اور کچرا نکالا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ مون سون کی صورتحال کی نگرانی کے لیے مرکزی ڈیجیٹل کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے جہاں 24 گھنٹے مانیٹرنگ جاری ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 204 ارب روپے کی لاگت سے 15 اضلاع میں ترقیاتی پروگرام شروع کیا گیا ہے، جو اس سے پہلے کبھی نہیں لایا گیا۔



