پنجاب میں اب گرفتار صرف شواہد کی بنیاد پر ہوگی،پولیس نے بڑا فیصلہ کرلیا

لاہور (جانو ڈاٹ پی کے) عدالتی احکامات کی روشنی میں تتیمہ بیان کی بنیاد پر ملزمان کی گرفتاری روکنے کے لیے پنجاب پولیس نے اہم اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب نے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے لیے مراسلہ جاری کر دیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق تتیمہ بیان کی حیثیت صرف گواہ کے دفعہ 161 کے بیان کی ہے، جس کی بنیاد پر کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ تتیمہ بیان کو بطور ثبوت بھی پیش نہیں کیا جا سکتا اور اس کا ایف آئی آر کے ساتھ کوئی براہ راست ربط نہیں ہوتا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اگر کسی مقدمے میں ملزم کو گرفتار کرنا مقصود ہو تو صرف تتیمہ بیان کی بنیاد پر گرفتاری نہیں کی جائے گی بلکہ گرفتاری کے لیے شواہد اور قابل قبول ثبوت کا ہونا ضروری ہوگا۔ گواہ کے بیان کے ساتھ ایسے شواہد اور ثبوت عدالت میں پیش کیے جا سکیں گے جو قانون کے مطابق قابل قبول ہوں۔
عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے لیے لاہور سمیت پنجاب بھر کے تمام آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو بھی ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔



