آزاد کشمیر میں کالعدم گروہ کی پرتشدد سرگرمیوں کے شواہد سامنے آ گئے

مظفرآباد(جانوڈاٹ پی کے) آزاد جموں و کشمیر میں ایک کالعدم تنظیم سے منسلک گروہ کی مبینہ پرتشدد سرگرمیوں سے متعلق شواہد سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جن میں عام شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے الزامات شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق دعویٰ کیا گیا ہے کہ عوامی حقوق کے نام پر سرگرم اس گروہ کے بعض عناصر نے مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کیے، جبکہ بھاری اسلحے کے استعمال اور فائرنگ کی مبینہ ویڈیوز بھی سامنے آنے کا کہا گیا ہے۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان حملوں میں پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ سرکاری و نجی املاک، گاڑیوں اور سی ایم ایچ سمیت مختلف مقامات کو نقصان پہنچانے کے بھی الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ مذکورہ گروہ پر جبری ہڑتالیں کرانے، دکانیں بند کرانے، شہریوں کو دھمکیاں دینے اور تشدد کے الزامات بھی ہیں۔
رپورٹ میں شامل ماہرین کی رائے کے مطابق شہری آبادی میں جدید اسلحے کا استعمال سنگین سکیورٹی خطرہ ہے اور ایسے اقدامات عوامی حقوق کی جدوجہد کے بجائے تشدد اور بدامنی کو فروغ دیتے ہیں۔ مزید یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ اس گروہ کی سرگرمیوں کے پیچھے بیرونی حمایت موجود ہو سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی آزادانہ تصدیق پیش نہیں کی گئی۔
نوٹ: مذکورہ الزامات متعلقہ رپورٹ اور سکیورٹی ذرائع کے دعووں پر مبنی ہیں۔ ان دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی، اور اگر متعلقہ فریق کا مؤقف سامنے آئے تو اسے بھی شامل کیا جانا چاہیے۔



