پاکستان مستقبل میں جے 10 سی کی تیاری کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے، خرم دستگیر

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر نے کہا ہے کہ پاکستان آنے والے وقت میں جے-10 سی جنگی طیاروں کی تیاری کی سہولت بھی حاصل کرسکتا ہے، جبکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون خطے میں نئی اسٹریٹجک حقیقت کو جنم دے رہا ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خرم دستگیر نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے اپنی عسکری طاقت استعمال کرنے پر آمادہ نہیں، اسی طرح عرب ممالک میں اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے بھی امریکی عسکری طاقت کے استعمال کے حوالے سے نئی حقیقت سامنے آچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1990 کی عراق جنگ کویت کی آزادی کے لیے لڑی گئی تھی، جس کے بعد سوویت یونین تحلیل ہوگیا اور عالمی نظام میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔ خرم دستگیر کے مطابق آج دنیا ایک مرتبہ پھر پرانے عالمی نظام کو تبدیل ہوتے دیکھ رہی ہے۔
لیگی رہنما نے کہا کہ ماضی میں مشرق وسطیٰ کو امریکی دفاعی چھتری تلے تصور کیا جاتا تھا، تاہم اب خطے میں حالات تبدیل ہوچکے ہیں۔ ان کے مطابق امریکا کی جانب سے اسرائیل کو خطے میں بالادست کردار دینے کی کوشش بھی کامیاب نہیں ہوسکی۔
خرم دستگیر نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ دو ایسے مسلم ممالک جن کے پاس اپنی دفاعی صلاحیت موجود ہے، ایک ایسے عرب ملک کے ساتھ مل رہے ہیں جس کے پاس بڑی مالیاتی طاقت اور تیل کے وسیع ذخائر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک کی قیادت کے لیے اب اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اس معاہدے کو مستقبل میں کس طرح مزید گہرے اور مؤثر تعلقات میں تبدیل کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تعاون سے پاکستان کی معیشت کو بھی بڑے فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔
خرم دستگیر کے مطابق سعودی عرب سے سرمایہ کاری حاصل ہونے کی صورت میں پاکستان اور ترکیہ اپنی دفاعی پیداوار بالخصوص ڈرونز کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ کے پاس ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز کی تیاری جبکہ پاکستان کے پاس جے ایف-17 کی پیداواری صلاحیت موجود ہے۔



