لاہور ہائیکورٹ کا نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو ادویات، کپڑوں اور کتابوں کی فراہمی سے متعلق رپورٹ طلب کرنے کا حکم

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے جیل میں ادویات، کپڑوں اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی سے متعلق رپورٹ طلب کرلی، جبکہ کیس کی مزید کارروائی 12 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔
جسٹس عبہر گل خان نے علیمہ خان کے بیٹے شاہ ریز کی درخواست پر سماعت کی۔ اس موقع پر درخواست گزار کی جانب سے وکیل رانا مدثر عمر عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو ادویات، کپڑوں، کتابوں اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے متفرق درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔
وکیل رانا مدثر عمر نے عدالت کو بتایا کہ 19 روز گزرنے کے باوجود متعلقہ خواتین کو مطلوبہ ادویات اور کپڑے فراہم نہیں کیے گئے۔ انہوں نے استدعا کی کہ جیل میں موجود نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو ادویات، کپڑے، کتابیں اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔
اس پر جسٹس عبہر گل خان نے ریمارکس دیے کہ مطلوبہ اشیاء کی فہرست باقاعدہ طور پر فراہم کی جائے تاکہ عدالت واضح طور پر حکم جاری کرسکے کہ جیل میں کون سی چیزیں بھیجی جا سکتی ہیں۔ عدالت نے کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرنے کی اجازت دینے سے بھی انکار کیا۔
سماعت کے دوران جسٹس عبہر گل خان نے ریمارکس دیے کہ کپڑے اور ادویات فراہم کیے گئے تھے، لیکن بعد میں یہ شکایت کی گئی کہ کچھ نہیں دیا گیا۔ عدالت نے وکیل سے کہا کہ پہلے مطلوبہ اشیاء کی فراہمی سے متعلق درخواستوں پر کارروائی مکمل کی جائے، اس کے بعد مرکزی کیس کی سماعت بھی کی جا سکتی ہے۔
وکیل نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی نظر بندی کے خلاف مرکزی درخواستوں پر بھی سماعت کی استدعا کی، تاہم عدالت نے کہا کہ پہلے ادویات اور کپڑوں کی فراہمی کا معاملہ طے کیا جائے۔ عدالت نے متفرق درخواستوں پر رپورٹ طلب کرتے ہوئے مزید کارروائی 12 اکتوبر تک ملتوی کردی۔



