اسرائیل کو بڑا جھٹکا! برطانیہ نے مقبوضہ علاقوں کی بستیوں پر پابندی لگا دی

لندن (جانو ڈاٹ پی کے) برطانیہ نے اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم یہودی بستیوں کے خلاف بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ان بستیوں سے منسلک اشیا اور بعض خدمات کی تجارت پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ برطانوی حکومت نے اس اقدام کو فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے تحفظ کی کوشش قرار دیا ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے پارلیمنٹ میں اسرائیلی پالیسیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی صورتحال انتہائی سنگین ہے اور اسرائیلی آبادکاریوں کی توسیع فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔
برطانیہ کا کہنا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاریاں عالمی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور ان کی مسلسل توسیع دو ریاستی حل کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔ برطانوی حکومت اس سے قبل بھی اسرائیل سے E1 منصوبہ روکنے اور آبادکاری کی توسیع ختم کرنے کا مطالبہ کرچکی ہے۔
تازہ پالیسی کے تحت برطانیہ نے اسرائیلی بستیوں سے پیدا ہونے والی اشیا کے ساتھ بعض متعلقہ خدمات پر بھی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم برطانوی حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام اسرائیل کے ساتھ مجموعی تجارت پر مکمل پابندی یا مکمل بائیکاٹ نہیں ہے۔
برطانوی حکومت نے فلسطین میں دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پائیدار امن کے لیے ایک محفوظ اسرائیل کے ساتھ ایک خودمختار اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے۔
غزہ کی صورتحال پر بھی برطانیہ کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ برطانوی حکومت کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی قانون اور عالمی عدالتوں کے فیصلوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔
برطانوی اقدام کے بعد اسرائیل کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی یہ فیصلہ اسرائیل کی آبادکاری پالیسی کے خلاف بڑھتے ہوئے سفارتی دباؤ کی ایک اہم کڑی قرار دیا جارہا ہے۔



