پاکستان نے معاشی استحکام حاصل کرلیا،اب پائیدار ترقی کی جانب سفر شروع ہے،احسن اقبال

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے بروقت مالی معاونت یقینی بنانا حکومت کی ترجیح ہے، مضبوط مالیاتی نظم و ضبط کے باعث ملکی مالیاتی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

ماہانہ ترقیاتی رپورٹ برائے اگست کے اجراء کی تقریب سے خطاب میں احسن اقبال نے کہا کہ ماہانہ ترقیاتی اپ ڈیٹ ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال، چیلنجز سے آگاہ کرنے کے عزم کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مشکل معاشی ایڈجسٹمنٹ کے مرحلے سے گزر کر استحکام حاصل کیا ہے، معاشی استحکام ہماری منزل نہیں بلکہ پائیدار معاشی ترقی کی جانب سفر کا آغاز ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اڑان پاکستان کے تحت معاشی استحکام کو پائیدار معاشی تبدیلی میں تبدیل کرنا ہماری ترجیح ہے، برآمدات کو معاشی ترقی کا اہم محرک بنا کر روزگار، بہتر آمدن اور نوجوانوں کے لیے مزید مواقع پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ مالی سال 27-2026ء کے آغاز پر معیشت سے متعلق حوصلہ افزا اشاریے سامنے آئے ہیں، جولائی 2026ء میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 9 اعشاریہ 2 فیصد رہی، جو مئی میں 11 اعشاریہ 7 فیصد تھی۔

احسن اقبال نے مزید کہا کہ حکومت نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاسوں کے ذریعے مارکیٹ اور قیمتوں کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کےلیے بروقت انتظامی اقدامات یقینی بنائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جولائی 2026ء میں بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر 3 اعشاریہ 6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، ترسیلات زر میں گزشتہ سال کے 3 اعشاریہ 2 ارب ڈالر کے مقابلے میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ مالی سال 26-2025ء میں ترسیلات زر ریکارڈ 41 اعشاریہ 6 ارب ڈالر رہیں، ترسیلات زر نے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ مالی سال 26-2025ء میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں اوسطاً 5 فیصد اضافہ ہوا، گزشتہ مالی سال میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں صفر اعشاریہ 7 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی تھی۔

احسن اقبال نے کہا کہ 22 میں سے 16 شعبوں میں مثبت شرح نمو ریکارڈ ہوئی، آٹو موبائلز کے شعبے میں 57 اعشاریہ 8، ٹرانسپورٹ آلات میں 42 اعشاریہ 4 اور برقی آلات میں 14 اعشاریہ3 فیصد شرح نمو ریکارڈ ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ مالی سال 27-2026ء کے آغاز پر بیرونی شعبے نے حوصلہ افزا کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، جولائی 2026ء میں اشیاء کی برآمدات 9 اعشاریہ 4 فیصد اضافے سے 3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جولائی 2025ء میں اشیاء کی برآمدات 2 اعشاریہ 8 ارب ڈالر تھیں، جو جولائی 2026ء میں بڑھ کر 3 ارب ڈالر ہو گئیں، جولائی 2026ء میں اشیاء اور سروسز کی مجموعی برآمدات 13 فیصد اضافے سے 3 اعشاریہ 9 ارب ڈالر رہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ سرجیکل مصنوعات کی برآمدات میں 16 اعشاریہ 3 فیصد، غذائی اشیاء میں 8 فیصد اضافہ ہوا، چمڑے کی مصنوعات میں 7 اعشاریہ 8 فیصد اور ٹیکسٹائل میں 3 اعشاریہ 9 فیصد اضافہ ہوا۔

احسن اقبال نے کہا کہ سروسز بالخصوص آئی ٹی برآمدات پاکستان کی بیرونی آمدن کی صلاحیت کو مسلسل مضبوط کر رہی ہیں، جولائی 2026ء میں آئی سی ٹی برآمدات 417 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل سروسز کے بڑھتے ہوئے امکانات کی عکاس ہیں، جولائی 2026ء میں اشیاء اور سروسز کی درآمدات 13 فیصد اضافے سے 7 اعشاریہ 3 ارب ڈالر رہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جولائی 2026ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 328 ملین ڈالر رہا، عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان کے بیرونی شعبے نے مسلسل لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ جولائی 2026ء میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں 8 اعشاریہ 4 فیصد اضافے سے 820 اعشاریہ 9 ارب روپے تک پہنچ گئیں، گزشتہ سال جولائی میں ایف بی آر نے 757 اعشاریہ 4 ارب روپے ٹیکس وصول کیا تھا۔

احسن اقبال نے کہا کہ ملکی وسائل سے آمدن بڑھانے اور ٹیکس نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات جاری ہیں، مالی سال 26-2025ء میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 2 اعشاریہ 6 فیصد تک محدود رہا۔

انہوں نے کہا کہ اڑان پاکستان کے تحت ترقیاتی وسائل زیادہ معاشی و سماجی اثرات رکھنے والے منصوبوں پر خرچ کیے جا رہے ہیں، جولائی 2026ء میں وزارت منصوبہ بندی نے ترجیحی ترقیاتی منصوبوں کے لیے 211 اعشاریہ 327 ارب روپے جاری کیے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ترقیاتی وسائل کا استعمال واضح نتائج، زیادہ معاشی منافع اور عوامی فلاح کو مدنظر رکھ کر کیا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button