امریکا نے جنگ بندی کو بحری ناکہ بندی مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیا، مفاہمتی یادداشت ختم ہو چکی، محسن رضائی

تہران(ویب ڈیسک) ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے کمانڈر محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے دو ہفتوں کی جنگ بندی قبول کیے جانے سے امریکا کو مذاکرات کے دوران اپنی بحری ناکہ بندی مزید مضبوط کرنے کا موقع ملا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن رضائی نے دعویٰ کیا کہ امریکا کی متعدد مبینہ خلاف ورزیوں کے باعث ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت اب عملی طور پر ختم ہو چکی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے انخلا میں ناکامی، آبنائے ہرمز میں ایران کے قانونی بحری راستے کے باوجود متبادل راستہ قائم کرنا، ایرانی سرزمین پر حملوں کے ذریعے ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور ایران کے منجمد اثاثے بحال نہ کرنا، امریکا کی جانب سے معاہدے کی واضح خلاف ورزیاں ہیں۔

محسن رضائی کے مطابق امریکا نے اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے اور اسے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے کے لیے کیے، جبکہ اسلام آباد مذاکرات کے بعد واشنگٹن نے بیک وقت جنگ اور مذاکرات کی پالیسی اختیار کر لی۔

اس سے قبل بھی محسن رضائی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر امریکا نے ایران پر حملے جاری رکھے تو تہران بھرپور جوابی کارروائی کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران صرف دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ حکمت عملی بھی اختیار کر سکتا ہے اور مزید امریکی حملوں کی صورت میں جنگ کا رخ تبدیل ہو سکتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button