ڈیپلو تعلقہ اسپتال کے قریب مبینہ طور پر زائد المیعاد سرکاری ادویات نذرِ آتش، ویڈیو وائرل، شہریوں کا شفاف تحقیقات کا مطالبہ

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) تھرپارکر کے ڈیپلو تعلقہ اسپتال کی شمالی دیوار کے قریب مبینہ طور پر زائد المیعاد سرکاری ادویات کو نذرِ آتش کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شہریوں، سماجی کارکنوں اور مختلف حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ محکمہ صحت کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق دو روز قبل اسپتال کے قریب مبینہ طور پر لاکھوں روپے مالیت کی زائد المیعاد سرکاری ادویات کو آگ لگا کر تلف کیا گیا۔ وائرل ویڈیو میں بڑی مقدار میں جلتی ہوئی ادویات اور ان کے خالی ڈبے دکھائی دیتے ہیں، تاہم اس معاملے پر محکمہ صحت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف یا وضاحت سامنے نہیں آئی۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ تعلقہ اسپتال میں اکثر ضروری ادویات دستیاب نہیں ہوتیں، جس کے باعث مریضوں کو نجی میڈیکل اسٹورز سے مہنگے داموں دوائیں خریدنا پڑتی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر واقعی اتنی بڑی مقدار میں سرکاری ادویات زائد المیعاد ہونے کے بعد ضائع کی گئی ہیں تو یہ نہ صرف قومی خزانے کا نقصان ہے بلکہ ادویات کی خرید، ذخیرہ، تقسیم اور نگرانی کے نظام پر بھی سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔

سماجی رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ادویات کو متعلقہ قواعد و ضوابط کے تحت تلف کیا گیا ہے تو محکمہ صحت اس کا مکمل ریکارڈ، قانونی طریقۂ کار اور متعلقہ دستاویزات عوام کے سامنے پیش کرے تاکہ شکوک و شبہات کا خاتمہ ہو سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں شفافیت ہی عوام کا اعتماد بحال کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔

شہریوں نے ضلع ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) تھرپارکر، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سندھ، سیکریٹری صحت سندھ اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر تحقیقات میں کسی بھی سطح پر غفلت، بدانتظامی، قواعد کی خلاف ورزی یا کرپشن ثابت ہو تو ذمہ دار افسران اور اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

شہری حلقوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ضلع بھر کے تمام سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی خرید، فراہمی، ذخیرہ اور زائد المیعاد ادویات کی تلفی کے نظام کا خصوصی آڈٹ کرایا جائے تاکہ سرکاری وسائل کے ضیاع کو روکا جا سکے اور عوام کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

نوٹ: اس خبر میں شامل الزامات مقامی ذرائع، شہریوں اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو سے متعلق دعوؤں پر مبنی ہیں۔ اس معاملے پر محکمہ صحت سندھ یا متعلقہ حکام کا باضابطہ مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔

مزید خبریں

Back to top button