فورڈ کا اے آئی پر انحصار مہنگا پڑ گیا، معیار بحران کے بعد 350 تجربہ کار انجینئرز دوبارہ بھرتی

نیو یارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی آٹو ساز کمپنی فورڈ نے مصنوعی ذہانت (AI) پر ضرورت سے زیادہ انحصار کے باعث پیدا ہونے والے معیار کے بحران، اربوں ڈالر کے نقصانات اور متعدد تکنیکی مسائل کے بعد 350 تجربہ کار انجینئرز کو دوبارہ ملازمت پر رکھ لیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کمپنی نے گزشتہ چند برسوں میں گاڑیوں کے ڈیزائن اور کوالٹی کنٹرول میں مصنوعی ذہانت پر زیادہ انحصار کیا، جبکہ بڑی تعداد میں تجربہ کار انجینئرز کمپنی چھوڑ گئے۔ ان کے جانے سے پہلے ان کا عملی تجربہ اور تکنیکی مہارت اے آئی سسٹمز میں مؤثر انداز میں منتقل نہ ہو سکی، جس کے باعث خودکار نظام خامیوں کی نشاندہی کرنے کے بجائے ناقص معلومات پر کام کرتے رہے۔
فورڈ کے نائب صدر برائے وہیکل ہارڈویئر انجینئرنگ چارلس پون نے اعتراف کیا کہ کمپنی نے یہ سمجھا تھا کہ صرف مصنوعی ذہانت متعارف کرانے اور ڈیزائن کے تقاضوں میں تبدیلی سے اعلیٰ معیار کی مصنوعات تیار ہو جائیں گی، تاہم بعد میں واضح ہوا کہ اے آئی کی کارکردگی اس معلومات اور ڈیٹا پر منحصر ہوتی ہے جس سے اسے تربیت دی جاتی ہے۔
معیار بہتر بنانے کے لیے فورڈ نے اپنے سینئر اور تجربہ کار انجینئرز، جنہیں کمپنی "گری بیئرڈ انجینئرز” کا نام دیتی ہے، دوبارہ بھرتی کیا۔ ان انجینئرز نے اے آئی کے تربیتی ڈیٹا کو ازسرنو ترتیب دیا، نوجوان انجینئرز کی رہنمائی کی اور خودکار کوالٹی سسٹمز کو مزید مؤثر بنایا۔
کمپنی نے اس کے علاوہ 40 انجینئرز پر مشتمل ایک خصوصی سافٹ ویئر کوالٹی ایشورنس ٹیم بھی قائم کی اور ایک لاکھ سے زائد اے آئی سے چلنے والے خودکار ٹیسٹ متعارف کرائے۔
فورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر کمار گلہوترا کے مطابق تجربہ کار انجینئرز اب گاڑیوں کے پرزہ جات فیکٹری تک پہنچنے سے پہلے ہی ممکنہ خامیوں کی نشاندہی کر رہے ہیں، جس سے معیار میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
فورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جم فارلے نے کہا کہ اس حکمت عملی کے نتیجے میں وارنٹی کلیمز اور گاڑیوں کی واپسی (ریکال) کے اخراجات میں نمایاں کمی آئی، جس سے کمپنی کو کروڑوں ڈالر کی بچت ہوئی۔ اسی بہتری کے باعث فورڈ نے 16 برس بعد پہلی مرتبہ جے ڈی پاور کی مین اسٹریم گاڑیوں کے معیار کی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کلارنا اور آئی بی ایم سمیت دیگر بڑی کمپنیاں بھی مصنوعی ذہانت کے استعمال کے بعد انسانی مہارت کی اہمیت کو دوبارہ تسلیم کرتے ہوئے تجربہ کار ملازمین کی خدمات حاصل کر رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق فورڈ کا تجربہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانی تجربے کا متبادل نہیں بلکہ ایک مؤثر معاون ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اس کے ساتھ تجربہ کار افراد کی مہارت بھی موجود ہو۔



