عالمی مارکیٹ میں سونا مزید سستا

لندن(ویب ڈیسک)عالمی منڈی میں بدھ کے روز سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بڑی وجوہات امریکی ڈالر کی مضبوطی، ٹریژری ییلڈز میں اضافہ اور شرح سود بڑھنے کے خدشات قرار دی جا رہی ہیں۔
بین الاقوامی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.7 فیصد کمی کے بعد 3,979.41 ڈالر فی اونس تک آ گئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی کم ہو کر 3,992.70 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرنے لگے۔
رپورٹس کے مطابق سونے نے گزشتہ سہ ماہی میں 13 برس کی سب سے بڑی سہ ماہی گراوٹ ریکارڈ کی، جبکہ مسلسل چوتھے ماہ بھی اس کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہا۔
مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی ڈالر کی مضبوطی اور ٹریژری بانڈز کی بلند ییلڈز نے سونے کی طلب کو متاثر کیا ہے۔ تجزیہ کار ایلیا اسپیوک کے مطابق مضبوط ڈالر اور بلند ییلڈز قیمتی دھات کی قیمتوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
دوسری جانب فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات بھی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ کلیولینڈ فیڈ کی صدر بیتھ ہیمک نے کہا ہے کہ اگر مہنگائی میں خاطر خواہ کمی نہ آئی تو شرح سود میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
مارکیٹ تجزیوں کے مطابق ستمبر میں شرح سود بڑھنے کے امکانات تقریباً 67 فیصد ہیں، جبکہ سرمایہ کار اب امریکی روزگار سے متعلق اہم معاشی اعداد و شمار کے منتظر ہیں۔
ادھر عالمی سیاسی کشیدگی، خصوصاً امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتے تناؤ کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی کی قیمت 1.4 فیصد کمی کے بعد 57.75 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 0.6 فیصد کمی کے ساتھ 1,542 ڈالر جبکہ پیلاڈیم 0.4 فیصد کمی کے بعد 1,199.34 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوا۔



