حملے کا شکار جنوبی کورین جہاز ’نامو‘ مرمت کے بعد جولائی میں آبنائے ہرمز سے روانہ ہوگا

سیئول(مانیٹرنگ ڈیسک) خلیج میں حملے کا نشانہ بننے والا جنوبی کوریا کا مال بردار جہاز ’نامو‘ مرمت مکمل ہونے کے بعد جولائی کے وسط میں آبنائے ہرمز سے اپنی بحری سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے روانہ ہونے کی توقع ہے۔
جنوبی کوریا کی وزارتِ بحری امور کے مطابق جہاز کو مئی میں ہونے والے حملے کے دوران نقصان پہنچا تھا، تاہم اس کی مرمت آخری مراحل میں ہے اور جلد مکمل کر لی جائے گی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شپنگ کمپنی HMM کے زیر انتظام چلنے والے جہاز ’نامو‘ کے پچھلے حصے کے قریب ڈھانچے کو حملے کے دوران نقصان پہنچا تھا۔
جنوبی کوریا نے 27 مئی کو دعویٰ کیا تھا کہ حملہ غالباً ایرانی اینٹی شپ میزائل سے کیا گیا، جس کے بعد ایران کے سفیر کو طلب کر کے تحقیقات سے آگاہ کیا گیا اور باضابطہ احتجاج بھی ریکارڈ کرایا گیا تھا۔
دوسری جانب جنوبی کوریا میں ایران کے سفیر سعید کوزچی نے تہران کے ملوث ہونے کی تردید کی، جبکہ بعد ازاں جنوبی کوریا نے واضح کیا کہ وہ حتمی طور پر یہ تعین نہیں کر سکا کہ حملے کا ذمہ دار کون تھا یا آیا حملہ دانستہ کیا گیا تھا۔
جنوبی کوریا کے نائب وزیر برائے بحری امور نام جے ہیون نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ اس وقت آبنائے ہرمز میں ’نامو‘ سمیت جنوبی کوریا کے دو بحری جہاز موجود ہیں، جن پر مجموعی طور پر 35 افراد پر مشتمل عملہ سوار ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتے قبل ہونے والی جنگ بندی کے بعد جنوبی کوریا کے زیر انتظام چلنے والے 21 بحری جہاز بحفاظت آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں۔



