تیل کا کوٹہ بڑھاؤ!عراق کا بھی اوپیک سے علیحدہ ہونے کا عندیہ

بغداد(جانوڈاٹ پی کے)عراق نے تیل کے پیداواری ممالک کی تنظیم اوپیک سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران جنگ میں اس کی تیل کی صنعت کو پہنچنے والے نقصان اور ملکی اقتصادی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے خام تیل کی پیداوار کا کوٹہ بڑھایا جائے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عراقی وزارتِ تیل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عراق خود اوپیک کا بانی رکن ہے اور حالیہ جنگ سے دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک کی طرح شدید متاثر ہوا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عراق کی معیشت کا تقریباً 90 فیصد انحصار تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی پر ہے اس لیے پیداوار میں کسی بھی قسم کی پابندی ملکی بجٹ اور اقتصادی استحکام پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔وزارتِ تیل نے بتایا کہ اوپیک نے رکن ممالک کی پیداواری صلاحیتوں کے نئے جائزے کا عمل شروع کر دیا ہے جس کے بعد کوٹوں میں ردوبدل کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔دوسری جانب بعض میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ عراق اوپیک سے علیحدگی پر غور کر رہا ہے۔عراقی وزارتِ تیل کے ترجمان سلیم الرکابی نے کہا کہ اس وقت عراق کا تنظیم چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں اور وہ اوپیک کے تمام ضوابط اور فیصلوں کا پابند ہے۔البتہ انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ عراق کو اس کی پیداواری صلاحیت کے مطابق زیادہ کوٹہ دیا جانا چاہیے۔ اگر اوپیک عراق کے پیداواری کوٹے میں اضافہ نہیں کرتی تو پھر حکومت کو تنظیم میں رہنے یا نہ رہنے کے حوالے سے فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے۔



