ٹرمپ اور نیتن یاہو!عالمی سیاست کے ٹام اینڈ جیری

تحریر:نہال معظم

​کہتے ہیں: "لڑائی بھی محبت کی نشانی ہوتی ہے۔” اگر یہ بات سچ ہے تو عالمی سیاست میں ٹرمپ اور نیتن یاہو سے زیادہ محبت شاید ہی کسی جوڑی میں پائی جاتی ہو۔ یہ دونوں عالمی سیاست کے ایسے ‘ٹام اینڈ جیری’ ہیں جو کبھی ایک دوسرے کی ٹانگ کھنچتے ہیں، کبھی ایک دوسرے کے پکے یار بن جاتے ہیں، لیکن یہ تماشا تب تک ہی مضحکہ خیز رہتا ہے جب تک یہ اپنے کارٹون ورلڈ میں قید ہیں۔ مگر جب یہ دونوں دیوانے، جنہیں اپنی انا کے پہاڑ سر کرنے کا خبط ہے، ساتھ بیٹھ کر دنیا کے نقشے پر لکیریں کھینچنے لگیں، تو پھر صرف گھر کا فرنیچر نہیں ٹوٹتا، بلکہ پوری دنیا کا امن اور جغرافیہ خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ آج کی دنیا کچھ ایسے ہی دو "سیاسی کھلاڑیوں” کے سائے میں سانس لے رہی ہے، جہاں لڑائی سکرپٹ کا حصہ ہے اور صلح اقتدار کا سودا۔

​گزشتہ دنوں خبر آئی کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو غصے میں ’’پاگل‘‘ قرار دے دیا۔ بتایا گیا کہ اس نے سخت لہجے میں پوچھا کہ ’’آخر تم کر کیا رہے ہو؟‘‘ اور پھر یہ بھی جتا دیا کہ اگر وہ نہ ہوتا تو نیتن یاہو شاید جیل میں ہوتا۔ سننے والے کو لگتا ہے کہ اب دونوں کے درمیان تعلقات ختم، دوستی ختم اور سیاسی شراکت بھی ختم۔ لیکن جو لوگ سیاست کے پرانے تماشے دیکھ چکے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ سیاست میں بعض جھگڑے سسرالی ناراضی کی طرح ہوتے ہیں؛ شور بہت ہوتا ہے مگر رشتہ قائم رہتا ہے۔

​ٹرمپ اور نیتن یاہو کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ جب بھی لگتا ہے کہ دونوں کے درمیان فاصلے بڑھ گئے ہیں، چند دن بعد کوئی نئی تصویر، نئی ملاقات یا نیا معاہدہ سامنے آ جاتا ہے۔ کبھی ٹرمپ شکایت کرتا ہے کہ نیتن یاہو نے اسے دھوکا دیا، کبھی نیتن یاہو اپنی سیاسی مشکلات کا رونا روتا ہے، مگر آخرکار دونوں ایک دوسرے کی ضرورت بن کر سامنے آتے ہیں۔

​اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ان کے درمیان اختلاف ہے یا نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ نیتن یاہو کو امریکی سیاسی اور عسکری پشت پناہی درکار ہے، جبکہ ٹرمپ کو ایک ایسے اتحادی کی ضرورت ہے جس کے ذریعے وہ خود کو عالمی سطح پر ایک طاقتور اور فیصلہ کن رہنما کے طور پر پیش کر سکے۔ یوں دونوں ایک ایسی سیاسی شراکت میں بندھے ہوئے ہیں جس میں ناراضی بھی کاروبار کا حصہ ہے۔

​دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں رہنماؤں کی شخصیتوں میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔ ایک کو یقین ہے کہ تاریخ اس کے بغیر ادھوری ہے اور دوسرے کو یقین ہے کہ دنیا اس کے بغیر چل ہی نہیں سکتی۔ ایک مشرقِ وسطیٰ کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنا چاہتا ہے اور دوسرا عالمی سیاست کو اپنی خواہشات کے تابع دیکھنا چاہتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ خواب بڑے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ جب خواب دیکھنے والے خود کو حقیقت سے بڑا سمجھنے لگیں تو خواب اور وہم کے درمیان فرق مٹنے لگتا ہے۔

​پاکستانی سیاست کے ناظرین اس منظر سے اجنبی نہیں۔ ہم نے بھی ایسے سیاست دان دیکھے ہیں جو خود کو قوم کا واحد نجات دہندہ سمجھتے ہیں اور ایسے حکمران بھی جو تنقید کو ذاتی دشمنی تصور کرتے ہیں۔ فرق صرف پیمانے کا ہے۔ یہاں نقصان کسی ایک ملک تک محدود رہتا ہے، وہاں فیصلوں کے اثرات پورے خطے بلکہ پوری دنیا تک پہنچتے ہیں۔

​آج غزہ، لبنان اور پورا مشرقِ وسطیٰ جس بے یقینی کا شکار ہے، اس کے پس منظر میں صرف ریاستی پالیسیاں نہیں بلکہ شخصی سیاست بھی کارفرما ہے۔ جب ریاستی مفادات، قومی سلامتی اور عالمی استحکام چند طاقتور شخصیات کے انا پرستانہ تصورات کے تابع ہونے لگیں تو پھر فیصلے ادارے نہیں کرتے، مزاج کرتے ہیں۔ اور مزاج کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کا کوئی آئین نہیں ہوتا۔

​اسی لیے ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی لفظی جنگوں پر بہت زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ ممکن ہے کہ آج ایک دوسرے پر الزامات لگانے والے کل پھر ایک ہی میز پر بیٹھے نظر آئیں۔ سیاست میں مستقل دشمنی سے زیادہ نایاب چیز مستقل دوستی ہے، لیکن مستقل مفادات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔

​دنیا کا المیہ یہ ہے کہ وہ ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں طاقت کی نمائش کو قیادت سمجھا جا رہا ہے اور جارحیت کو جرات کا نام دیا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں سب سے بڑا خطرہ کسی ایک جنگ یا ایک تنازعے سے نہیں بلکہ اس سوچ سے پیدا ہوتا ہے جو یہ سمجھتی ہے کہ طاقت ہی حق ہے۔

​شاید اسی لیے ان دونوں رہنماؤں کے تعلق کو دوستی یا دشمنی کے پیمانے سے نہیں، بلکہ مشترکہ جنون کے پیمانے سے سمجھنا چاہیے۔ کیونکہ دیوانے جب ایک دوسرے سے لڑتے ہیں تو خبر بنتی ہے، مگر جب ایک دوسرے سے متفق ہو جاتے ہیں تو تاریخ کا رخ بدل جاتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button