مصنوعی ذہانت کا بھیانک چہرہ: معصومیت کا قتلِ عام اور ڈیجیٹل درندوں کا راج، ہمارے لیے ایک انتباہ

تحریر:نہال معظم

​ٹیکنالوجی کی مٹھی میں قید جدید دنیا جس رفتار سے ترقی کے مینار تعمیر کر رہی ہے، اسی رفتار سے انسانی اخلاقیات اور معصومیت کا جنازہ بھی نکل رہا ہے۔ مغرب کی ایک حالیہ ہولناک رپورٹ نے ترقی کے تمام دعووں کو تار تار کرتے ہوئے ایک ایسا خوفناک سچ دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا ہے جس نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یورپ، جو خود کو انسانی حقوق اور تحفظ کا علمبردار کہتا ہے، اس وقت مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کے ذریعے تیار کردہ بچوں کے جنسی استحصال اور بدسلوکی کے مواد کے ایک بے قابو طوفان کی زد میں ہے۔ لیکن جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ آگ صرف مغرب تک محدود ہے، وہ گہری غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ انٹرنیٹ کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور یورپ سے اٹھنے والا یہ بھیانک طوفان اب ہمارے اپنے خطے، پاکستان اور ارد گرد کے سماج کے دروازوں پر دستک دے رہا ہے، جہاں کمزور سائبر قوانین، نامکمل ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور عوامی آگاہی کی شدید کمی کی وجہ سے ہمارے اپنے معصوم بچے ان عالمی ڈیجیٹل درندوں کا سب سے آسان اور نرم ہدف بن چکے ہیں۔

​انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن (IWF) اور یوروپول کی جانب سے جاری کردہ لرزہ خیز ڈیٹا واضح کرتا ہے کہ کس طرح بین الاقوامی مجرموں نے معصوم بچوں کی زندگیوں کو جہنم بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کو اپنا سب سے خطرناک اور جدید ہتھیار بنا لیا ہے۔ صرف گذشتہ ایک سال کے دوران انٹرنیٹ کی تاریک اور روشن دنیا میں اے آئی سے تیار کردہ بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد میں چودہ فیصد کا تشویشناک اضافہ ہوا ہے، لیکن اس تصویر کا سب سے ہولناک رخ وہ ڈیجیٹل ویڈیوز ہیں جن کی تخلیق میں مصنوعی ذہانت نے انسانی تصور سے بڑھ کر وحشت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائی گئی معصوم بچوں کی غیر اخلاقی ویڈیوز میں ناقابل یقین حد تک دو سو ساٹھ گنا سے زیادہ کا دھماکہ خیز اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ ان میں سے پینسٹھ فیصد سے زائد ویڈیوز قانون کی رو سے خطرناک ترین اور انتہائی سنگین درجے کی کیٹیگری میں آتی ہیں، جن میں بچوں پر بدترین تشدد کو اے آئی کے ذریعے اس قدر حقیقی انداز میں فلمایا گیا ہے کہ انسانی آنکھ اور جدید ترین کمپیوٹر الگورتھم بھی سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے سے قاصر ہو جاتے ہیں۔

​ہمارے خطے کے لیے سب سے بڑا انتباہ اور خطرہ یہ ہے کہ یہ سیلاب اب صرف ڈارک ویب تک محدود نہیں رہا بلکہ عام تجارتی اور عوامی پلیٹ فارمز پر بھی سرایت کر چکا ہے، جہاں کوئی بھی مقامی انٹرنیٹ صارف معمولی کوشش سے ان تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ چائلڈ لائٹ انسٹی ٹیوٹ کی تحقیقات کے مطابق ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے حقیقی بچوں کے چہروں کو غیر اخلاقی مواد پر چسپاں کرنے کے واقعات میں تیرہ سو فیصد سے زیادہ کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں، جہاں سوشل میڈیا پر بچوں کی تصاویر اور ویڈیوز بلا جھجک شیئر کرنا ایک عام خاندانی رواج بن چکا ہے، وہاں یہ ڈیجیٹل شکاری مقامی اسکولوں کے معصوم اور ہنستے کھیلتے بچوں کی تصاویر انٹرنیٹ سے اٹھا کر اے آئی کے ذریعے انہیں غلیظ ترین مواد میں تبدیل کر رہے ہیں۔ بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اپنی جیبیں بھرنے اور کاروباری مسابقت میں آگے نکلنے کے لیے ایسے ٹولز مارکیٹ میں کھلے چھوڑ دیے ہیں جن پر کوئی اخلاقی فلٹر موجود نہیں، اور یہی وجہ ہے کہ اب ایک عام کمپیوٹر اور چند سطروں کی کمانڈ کے ذریعے ہمارے اپنے محلوں، گلیوں اور گھروں کے بچوں کی مصنوعی لیکن انتہائی حقیقت پسندانہ تصاویر سیکنڈوں میں تیار کی جا رہی ہیں، جو کہ ہمارے خاندانی اور سماجی ڈھانچے کے لیے ایک خاموش ایٹم بم ہے۔

​اس بھیانک دھندے کا ایک تاریک ترین پہلو یہ بھی ہے کہ ان اے آئی ماڈلز کو سکھانے اور تربیت دینے کے لیے پہلے سے موجود حقیقی مظلوم بچوں کے ڈیٹا کا استعمال کیا جاتا ہے، یعنی معصومیت کو بار بار ڈیجیٹل اسکرینوں پر قتل کر کے ان کے زخموں کو ہمیشہ کے لیے زندہ رکھا جا رہا ہے۔ یوروپول کے مطابق بہتر فیصد سے زائد ایسی ویب سائٹس یورپ سے چلائی جا رہی ہیں، لیکن ان کا شکار ہونے والے اور ان کے بدقماش صارفین دنیا کے ہر کونے، بشمول ہمارے خطے میں موجود ہیں۔ ہمارا سماج، جہاں بچوں کے تحفظ کا مروجہ نظام اور سائبر کرائم کے خلاف کارروائیاں پہلے ہی سست روی کا شکار ہیں، اس ڈیجیٹل جہنم کی زد میں سب سے پہلے آ رہا ہے۔ یہ صورتحال ہمارے حکمرانوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خاص طور پر والدین کے لیے ایک آخری انتباہ ہے۔ اس وقت دنیا ایک ایسے چوراہے پر کھڑی ہے جہاں قانون سازی کی سست رفتاری ٹیکنالوجی کی برق رفتاری کے سامنے گھٹنے ٹیک چکی ہے۔ اگر اب بھی ہمارے مقامی حکام نے ہنگامی بنیادوں پر سخت ترین قوانین نافذ نہ کیے، اور والدین نے اپنے بچوں کی ڈیجیٹل نگرانی سخت نہ کی، تو ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل اس ڈیجیٹل آگ میں جل کر خاکستر ہو جائے گا جہاں معصومیت صرف ایک لفظ بن کر رہ جائے گی اور درندگی کا یہ اے آئی ماڈل ہماری پوری نسل کو نگل جائے گا۔

مزید خبریں

Back to top button