قیامت خیز گرمی اور بے زبان قیدی! چڑیا گھر یا عقوبت خانے؟

( حصہ اوّل)

تحریر:نہال معظم

کیا پاکستان کے چڑیا گھر بدلتی ہوئی آب و ہوا کے لیے تیار ہیں؟ جانور کتنی گرمی سہہ سکتے ہیں اور ہمارے زو کہاں کھڑے ہیں؟

یہ وہ سوال ہیں جن پر بات کرنے کے لیے ایک کالم کافی نہیں ۔یہ ایک نہایت سنجیدہ اور فکر انگیز موضوع ہے جس کے ہر پہلو پر بات کرنا ناگزیر ہے۔

دنیا کا موسم تیزی سے بدل رہا ہے۔ گلوبل وارمنگ، ہر گزرتے سال کے ساتھ بڑھتا درجہ حرارت، ایل نینو کے اثرات اور شہروں میں درختوں کے تیزی سے خاتمے نے گرمی کو پہلے سے کہیں زیادہ شدید بنا دیا ہے۔ کنکریٹ کے پھیلتے ہوئے جنگل، سڑکوں اور عمارتوں کی تپتی سطحیں اور سایہ دار درختوں کی مسلسل کمی شہروں کو ایسے اربن ہیٹ آئی لینڈز میں بدل رہی ہے جہاں درجہ حرارت اردگرد کے علاقوں سے بھی زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ دوسری طرف گرمی سے بچنے کے لیے اے سی اور دیگر مصنوعی کولنگ سسٹمز پر انحصار بڑھ رہا ہے، جبکہ سولر پلیٹس اگرچہ صاف توانائی کا اہم ذریعہ ہیں، مگر ان کے ساتھ بھی ایسی منصوبہ بندی ضروری ہے جس میں سبزہ اور قدرتی ٹھنڈک نظرانداز نہ ہو۔ انسان تو کسی حد تک گھر، دفتر یا گاڑی میں اے سی چلا کر اس بڑھتی گرمی سے بچ سکتا ہے، لیکن چڑیا گھر میں قید جانور کہاں جائیں؟

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ ہر جانور شدید گرمی کو ایک جیسی شدت سے برداشت نہیں کرسکتا۔ قدرتی ماحول میں جانور موسم کی شدت سے بچنے کے لیے سایہ تلاش کرتے، پانی میں اترتے، مٹی یا کیچڑ میں جاتے، درختوں کے نیچے چھپتے یا دن کے گرم ترین حصے میں اپنی سرگرمی کم کردیتے ہیں۔ مگر چڑیا گھر میں ان کا پورا انحصار انسان کے بنائے ہوئے ماحول پر ہوتا ہے۔ اگر وہ ماحول ہی کنکریٹ، لوہے، دھوپ اور محدود سبزے پر مشتمل ہو تو موسمیاتی تبدیلی کا ہر نیا درجہ ان کے لیے ایک نیا امتحان بن سکتا ہے۔

شیر کو گرم موسم کا عادی سمجھا جاتا ہے، اور واقعی افریقی شیر گرم و خشک علاقوں میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ اسے گرمی محسوس نہیں ہوتی۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ تقریباً 25 سے 33 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان شیر نسبتاً کم جسمانی دباؤ کے ساتھ اپنا درجہ حرارت برقرار رکھ سکتا ہے، جبکہ تقریباً 34 ڈگری کے قریب جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ہانپنے جیسے ردعمل نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ قدرتی ماحول میں شیر شدید گرمی کے دوران سایہ تلاش کرکے اور اپنی سرگرمی کم کرکے خود کو محفوظ رکھتا ہے۔ چڑیا گھر میں یہ سہولت باڑے کی ساخت اور انتظامیہ فراہم کرتی ہے۔

ہاتھی کو عموماً گرم موسم کا عادی جانور سمجھا جاتا ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ شدید گرمی سے محفوظ ہے۔ ہاتھی اپنے بڑے کانوں کو حرکت دے کر جسم کی حرارت خارج کرتا، پانی میں نہاتا، جسم پر پانی ڈالتا اور کیچڑ میں لوٹ کر جلد کو ٹھنڈا رکھتا ہے۔ قدرتی ماحول میں ایک ہاتھی گرمی سے بچنے کے لیے پانی یا سایہ تلاش کرسکتا ہے، لیکن چڑیا گھر کے محدود باڑے میں اس کی نقل و حرکت محدود ہوجاتی ہے۔ اگر وہاں گہرا سایہ، مناسب پانی، نہانے کی جگہ، کیچڑ اور ٹھنڈی زمین موجود نہ ہو تو گرمی اس کے لیے شدید جسمانی دباؤ کا سبب بن سکتی ہے۔

پاکستان میں ہاتھیوں کی افسوسناک اموات نے اس مسئلے کو محض موسمیاتی بحث نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ہمارے زو کے انتظامی نظام کا بڑا سوال بنا دیا ہے۔ کراچی چڑیا گھر کی نور جہاں کی موت نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، جبکہ کراچی سفاری پارک کی سونیا بھی چل بسی۔ اس سے قبل لاہور چڑیا گھر کی سوزی کی موت بھی جانوروں کی رہائش اور نگہداشت پر سوالات اٹھا چکی تھی۔ ہاتھی جیسے بڑے، ذہین اور سماجی جانور کو محدود جگہ، ناقص ماحول، ناکافی سرگرمی اور شدید گرمی کا سامنا ہو تو مسئلہ صرف درجہ حرارت کا نہیں رہتا بلکہ اس کی پوری جسمانی اور ذہنی صحت متاثر ہوسکتی ہے۔

چیتا بھی گرم اور خشک افریقی علاقوں کا باشندہ ہے، لیکن اس کا جسم بنیادی طور پر رفتار کے لیے بنا ہے۔ شکار کے دوران تیز دوڑ سے اس کے جسم کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ سکتا ہے، اسی لیے چیتے عموماً دن کے انتہائی گرم حصے میں سرگرمی محدود کرکے نسبتاً ٹھنڈی جگہوں پر آرام کرتے ہیں۔ چڑیا گھر میں اس کے لیے سایہ، مناسب ہوا، پانی اور حرکت کی گنجائش صرف سہولت نہیں بلکہ فلاحِ حیوانات کی بنیادی ضرورت ہے۔

زیبرا اور زرافہ بھی افریقہ کے گرم علاقوں میں پائے جاتے ہیں اور ان میں گرم موسم سے نمٹنے کی قدرتی صلاحیتیں موجود ہیں۔ زیبرا دھوپ اور گرمی برداشت کرسکتا ہے، مگر پانی اور سایہ کی ضرورت ختم نہیں ہوجاتی۔ زرافہ بھی گرم ماحول کا عادی ہے، لیکن شدید گرمی میں پانی کی دستیابی اور سایہ دار جگہ اس کی فلاح کے لیے اہم رہتی ہے۔ قدرتی ماحول میں یہ جانور اپنی نقل و حرکت اور آرام کے اوقات خود طے کرسکتے ہیں، جبکہ پنجرے میں یہ اختیار انسان کے پاس ہوتا ہے۔

یہاں سے اصل سوال شروع ہوتا ہے: اگر گرم علاقوں کے یہ جانور بھی شدید گرمی میں سایہ، پانی، مٹی، کیچڑ اور قدرتی ماحول کے محتاج ہیں تو پاکستان کے زو ان کے لیے کیا انتظام کر رہے ہیں؟

کیونکہ مسئلہ صرف آسمان سے برستی گرمی کا نہیں، مسئلہ اس گرمی کے نیچے کھڑے کنکریٹ کے ان پنجرے ہیں، جن میں جانور کے پاس بھاگنے، چھپنے یا موسم سے بچنے کا اختیار تک نہیں۔

جاری ہے۔

مزید خبریں

Back to top button