تمباکو کی تشہیر پر پابندی برقرار، لاہور ہائیکورٹ نے درخواستیں خارج کردیں

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے سگریٹ اور تمباکو مصنوعات کی تشہیر، پروموشن اور اسپانسرشپ پر پابندی کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کرتے ہوئے وفاقی حکومت کا نوٹیفکیشن قانونی قرار دے دیا۔

جسٹس راحیل کامران نے آل پاکستان مرکزی یونین پان، بیڑی، سگریٹ و مشروب ریٹیلرز اور دیگر کی درخواستوں پر 35 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 18 کے تحت تمباکو مصنوعات کی تشہیر کا کوئی غیر مشروط بنیادی حق حاصل نہیں۔ تجارتی مفادات کے مقابلے میں نوجوانوں کی صحت کا تحفظ زیادہ اہم ہے۔

فیصلے میں دکانوں اور پوائنٹ آف سیل پر تمباکو مصنوعات کی برانڈنگ اور نمایاں نمائش پر پابندی برقرار رکھتے ہوئے ریٹیلرز کو دی جانے والی کیش اسکیموں، انعامات اور ڈسکاؤنٹس پر پابندی بھی درست قرار دی گئی۔

عدالت نے قرار دیا کہ انسدادِ تمباکو نوشی کے لیے 2002 کے قانون کے تحت قائم کمیٹی کو تمباکو مصنوعات کی تشہیر پر پابندی عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد بھی بین الاقوامی معاہدوں کی روشنی میں تمباکو کنٹرول سے متعلق وفاقی اختیار برقرار ہے۔

فیصلے میں عالمی ادارۂ صحت کے فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول (FCTC) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس کی روشنی میں گائیڈ لائنز مرتب کرنا قانونی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ تمباکو عام اشیا کی طرح نہیں بلکہ انتہائی مضرِ صحت ہے اور مہلک بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ تمباکو کی تشہیر پر پابندی کا بنیادی مقصد سگریٹ نوشی کی روک تھام اور عوام، خصوصاً نوجوانوں کی صحت کا تحفظ ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ کسی جائز کاروبار پر بھی عوامی صحت کے تحفظ کے پیش نظر معقول پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں، لہٰذا وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن قانون کے مطابق اور نافذالعمل رہے گا۔

مزید خبریں

Back to top button