جنید اکبر کی مبینہ آڈیو لیک،شاہ فرمان پرسنگین الزامات،سابق گورنرکابھی کراراجواب

پشاور (جانو ڈاٹ پی کے) پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر کی سابق گورنر اور پارٹی رہنما شاہ فرمان کے حوالے سے مبینہ آڈیو لیک ہونے کے بعد صوبائی سیاست میں ہلچل مچ گئی۔
مبینہ آڈیو میں جنید اکبر کو شاہ فرمان کے حوالے سے مختلف الزامات عائد کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ جنید اکبر کا کہنا ہے کہ شاہ فرمان کو معلوم ہونا چاہیے کہ سب سے کم فنڈز ملاکنڈ کو ملے ہیں، انہوں نے کبھی اپنے لیے یا کسی رشتہ دار کے لیے کچھ نہیں مانگا اور نہ ہی ٹرانسفر پوسٹنگ کی۔
مبینہ آڈیو میں جنید اکبر نے شاہ فرمان پر اپنے بھائی کو ٹکٹ دینے اور ایک ٹھیکیدار سے مبینہ طور پر اپنے اخراجات چلانے سمیت دیگر الزامات بھی عائد کیے۔ آڈیو میں سابق صوبائی وزیر شکیل خان کے حوالے سے بھی مالی معاملات سے متعلق سنگین دعوے کیے گئے ہیں۔
جنید اکبر نے مبینہ طور پر کہا کہ انہیں کسی سے مانگنا نہیں آتا اور اس نوعیت کے کام کو انہوں نے نامناسب قرار دیا۔
دوسری جانب مبینہ آڈیو سامنے آنے کے بعد سابق گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے جنید اکبر کے الزامات کو مسترد کردیا۔
شاہ فرمان کا کہنا تھا کہ جنید اکبر کے الزامات کوئی معنی نہیں رکھتے اور انہیں چاہیے کہ جو ذمہ داری پارٹی نے انہیں سونپی ہے، وہ اس پر توجہ دیں۔
شاہ فرمان نے کہا کہ ان پر کرپشن کے الزامات عائد کرنے سے پہلے جنید اکبر کو سوچ لینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں پارٹی احتساب کمیٹی کا رکن بنایا۔
سابق گورنر نے مزید دعویٰ کیا کہ بطور گورنر انہوں نے کروڑوں روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائے تھے۔
مبینہ آڈیو لیک اور اس کے بعد شاہ فرمان کے ردعمل نے پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں اندرونی اختلافات اور پارٹی رہنماؤں کے درمیان جاری کشیدگی سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔



