امریکی حملوں کے بعد ایران کی جوابی کارروائی، امریکی اڈے اور آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی شہر بندر عباس پورٹ کے قریب امریکی فضائی حملوں کے بعد ایران نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اُس امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے ایران پر حملے کیے گئے تھے۔ ایرانی حکام کے مطابق دشمن کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر امریکا نے دوبارہ حملہ کیا تو ایران کا ردِعمل پہلے سے زیادہ سخت اور فیصلہ کن ہوگا، جبکہ تمام نتائج کی ذمہ داری جارح فریق پر عائد ہوگی۔
ایرانی حکام نے مزید دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں 3 جہازوں کو داخلے سے روک دیا گیا۔ دوسری جانب برطانوی نشریاتی ادارے نے ایرانی قونصل خانے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی فوج نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک امریکی آئل ٹینکر پر فائرنگ کی، جس کے بعد ٹینکر کو واپس جانے پر مجبور ہونا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی آئل ٹینکر مبینہ طور پر اپنا ریڈار بند کرکے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ادھر عرب میڈیا کے مطابق امریکا نے ایرانی فضائی سرگرمیوں کے جواب میں 3 ایرانی ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا نے ایک ہفتے کے دوران دوسری بار ایران پر فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا تاکہ امریکی افواج اور تجارتی جہازوں کو درپیش خطرات کا خاتمہ کیا جا سکے۔



