اسرائیلی مہرے چت، پاکستان کا ماسٹر سٹروک اور نتن یاہو سرکار کا عبرت ناک انجام

تحریر:معظم فخر

​مشرقِ وسطیٰ کا سیاسی افق ایک بار پھر انتہائی سنسنی خیز اور ڈرامائی تبدیلیوں کی زد میں ہے، جہاں پاکستان نے اپنی اعلیٰ ترین انٹیلی جنس بالادستی کے ذریعے اسرائیل کے ایک انتہائی ہولناک اور گھناؤنے خفیہ آپریشن کو خاک میں ملا کر پورے خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔ اسرائیل کے وزیرِ اعظم بینجمن نتن یاہو نے خطے میں امن کی کوششوں اور امریکہ و ایران کے درمیان مجوزہ جنگ بندی کے عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے ایک خطرناک "فالس فلیگ” آپریشن ترتیب دیا تھا۔ اس سازش کے تحت حج کے مقدس ایام کے دوران سعودی عرب پر تین اور متحدہ عرب امارات پر چھ ڈرون حملے کیے گئے، جن میں سے یو اے ای کے البرکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے بیرونی حصے کو بھی نقصان پہنچا۔ ابتدائی سیٹلائٹ ڈیٹا اور سگنچرز کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ یہ ڈرونز عراق میں موجود ایران نواز مزاحمتی گروپس نے فائر کیے ہیں تاکہ حج کے موقع پر پوری مسلم دنیا میں ایران کے خلاف شدید نفرت کی لہر دوڑ جائے اور سعودی عرب و متحدہ عرب امارات مجبوراً ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں کود پڑیں۔ اسرائیل کا اصل مقصد واشنگٹن کی نظر میں پاکستان کی ثالثی کی اہمیت کو ختم کرنا اور امریکہ کو اس جنگ کی دلدل میں گھسیٹنا تھا۔ لیکن عین اس وقت جب امریکہ ایران پر حملے کے لیے بالکل تیار تھا اور کارروائی میں محض 60 منٹ باقی رہ گئے تھے، پاکستانی انٹیلی جنس نے کمال مہارت سے کام لیتے ہوئے ڈرونز کی اڑان سے لے کر ان کے اصل ٹھکانوں تک کے ایسے ناقابلِ تردید دستاویزی ثبوت واشنگٹن، ریاض اور ابوظہبی کے ساتھ شیئر کیے جس نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ پورا ڈرامہ کسی ایرانی گروہ نے نہیں بلکہ خود اسرائیل نے رچایا تھا۔

​پاکستانی انٹیلی جنس کی اس ناقابلِ یقین اور 100 فیصد درست معلومات نے وائٹ ہاؤس میں زلزلہ برپا کر دیا، جس کے بعد سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات نے فوری طور پر امریکی انتظامیہ سے شدید احتجاج کیا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر حملہ منسوخ کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس ماسٹر سٹروک کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن یاہو کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کی جو تفصیلات امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ ‘ایکسکالیبر’ اور ‘ٹائمز آف اسرائیل’ کے صحافی براک ریوڈ نے برہنہ کی ہیں، وہ انتہائی چونکا دینے والی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے شدید غصے میں نتن یاہو کو ایسی سخت اور غلیظ گالیاں دیں کہ بقول رپورٹر ان کے لب و لہجے نے نتن یاہو کے بال جلا کر رکھ دیے اور واشنگٹن نے واضح کر دیا کہ وہ اب اسرائیل کی مرضی کے بغیر صرف پاکستان کے ذریعے ہی ایران کے ساتھ امن عمل کو آگے بڑھائے گا۔ صدر ٹرمپ نے یہاں تک کہہ دیا کہ نتن یاہو کی کوئی اوقات نہیں اور وہ وہی کرے گا جو واشنگٹن کہے گا۔ اس بدترین ذلت، اندرونی دباؤ اور امریکی پابندی سے بچنے کے لیے نتن یاہو نے بوکھلاہٹ میں اپنی جنگی کابینہ سے مشورے کے بعد اسرائیلی پارلیمنٹ میں قبل از وقت انتخابات کرانے کی قرارداد پیش کر دی ہے جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ نتن یاہو سرکار اب ستمبر یا اکتوبر میں نئے الیکشن کے ذریعے ایران مخالف فریش مینڈیٹ لینے کے بہانے اسمبلیاں توڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو چکی ہے۔

​اسرائیلی مہروں کے چت ہونے کے بعد اب پاکستان خطے میں امن کے سب سے بڑے ضامن کے طور پر ابھرا ہے، جہاں وفاقی وزیر محسن نقوی کے تہران کے کامیاب دورے کے بعد آج پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر خود ایران پہنچ رہے ہیں۔ وہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف اور آئی آر جی سی کی قیادت سے ملاقاتوں کے بعد ایک تاریخی "لیٹر آف انٹینٹ” یعنی مفاہمتی دستاویز پر ایرانی قیادت کے دستخط لیں گے۔ اس امریکی پیشکش کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز کی صورتحال 28 فروری کی پوزیشن پر بحال کرنی ہوگی، جس کے بدلے میں امریکہ اگلے 30 دنوں کے اندر مذاکرات کا آغاز کر کے ایران کے 25 فیصد منجمد اثاثے فوری بحال کرے گا اور بتدریج معاشی پابندیاں ہمیشہ کے لیے ختم کر دی جائیں گی۔ پاکستانی انٹیلی جنس کی اس تاریخی برتری اور سچائی نے حج کے موقع پر امتِ مسلمہ کو لڑانے کی ایک خوفناک بین الاقوامی سازش کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا ہے اور اب تہران اور واشنگٹن کے درمیان امن کا راستہ صرف اور صرف پاکستان کے ماسٹر سٹروک کی بدولت ممکن ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button