مغربی بنگال کےمدارس میں صبح کی اسمبلی کے دوران ’وندے ماترم‘ گانا لازمی قرار،مسلم تنظیموں کا اعتراض

کولکاتہ(جانوڈاٹ پی کے)بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد مغربی بنگال کے مدارس میں ‘وندے ماترم’ گانا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
مغربی بنگال کے مدرسہ تعلیم کے ڈائریکٹوریٹ نے ایک اہم اور بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ریاست بھر کے تمام سرکاری، امداد یافتہ اور تسلیم شدہ مدارس میں کلاسیں شروع ہونے سے پہلے صبح کی اسمبلی کے دوران قومی گیت ‘وندے ماترم’ گانے کو لازمی قرار دے دیا ہے اور اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
ریاست کی سویندو ادھیکاری حکومت نے یہ فیصلہ تمام اسکولوں میں وندے ماترم کو لازمی قرار دینے کے محض ایک ہفتہ بعد لیا ہے۔ گزشتہ ہفتے حکومت نے ریاست کے تمام اسکولوں میں وندے ماترم کے تمام چھ بندوں کا گانا لازمی کیا تھا، جس کے تحت اب طلباء کو روزانہ کلاسز شروع ہونے سے پہلے اسمبلی میں یہ گیت گانا ہوگا۔
واضح رہے کہ رواں سال فروری میں مرکزی حکومت نے وندے ماترم کو ملک کے قومی ترانے ‘جن گن من’ کے برابر کا درجہ دیا تھا، جس کے بعد تمام سرکاری اور اسکولی تقریبات میں قومی ترانے کے ساتھ وندے ماترم کے تمام چھ بند گانا لازمی ہو چکا ہے۔
مزید برآں مرکزی کابینہ نے قومی گیت کے گانے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو قابل سزا جرم بنانے کے لیے ‘قومی اعزاز کی توہین کی روک تھام ایکٹ 1971’ میں ترمیم کی تجویز کو بھی منظوری دے دی ہے۔
دوسری جانب مغربی بنگال حکومت کے اس فیصلے نے ایک نئی سیاسی اور مذہبی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ جمیعت علماء ہند، جماعت اسلامی اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ سمیت دیگر مسلم تنظیمیں ہمیشہ سے وندے ماترم کو لازمی قرار دینے کی کوششوں کی مخالفت کرتی آئی ہیں۔
حالیہ دنوں میں نئی دہلی میں منعقدہ جمعیۃ علماء ہند کی ورکنگ کمیٹی کے دو روزہ کنونشن کے دوران صدر مولانا ارشد مدنی نے ‘وندے ماترم’ پر سخت اعتراض اٹھایا۔
انہوں نے دلیل دی کہ وندے ماترم کو قومی ترانے کے مساوی درجہ دینا اور تعلیمی اداروں میں اسے لازمی قرار دینا آئین کی بنیادی روح اور مذہبی آزادی کے اصول کے خلاف ہے۔
انہوں نے حکومت کو وارننگ دی کہ اگر یہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو جمعیت اس کے خلاف عدالت سے رجوع کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی مولانا ارشد مدنی نے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے خلاف بھی اپنی قانونی جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔



