"ہنٹا "کے بعد” نورو "کا ٹنٹا: ایک کے بعد ایک وائرس لیکن سمندری سفر کا جنون عروج پر!

نہال معظم
انسان بھی کیاعجیب مہم جو مخلوق ہے۔ ایڈونچر اور عیاشی کے نام پر موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ مئی 2026 کے وسط میں جب عالمی میڈیا پر یہ سنسنی خیز خبریں بریک ہوئیں کہ سمندر کی بے رحم لہروں پر تیرتے پرتعیش شہروں یعنی کروز بحری جہازوں پر ہنٹا اور نورو وائرس نے ایک بار پھر قہر ڈھانا شروع کر دیا ہے، تو عقل کا تقاضا یہ تھا کہ سیاحت کی یہ اربوں ڈالر کی انڈسٹری دھڑام سے زمین بوس ہو جائے گی۔ لیکن ہوا اس کے بالکل برعکس۔ خوف اور وحشت کے اس دور میں بھی سمندری سیاحت کی تاریخ کے تمام پچھلے ریکارڈ پاش پاش ہو گئے اور پونے چار کروڑ سے زائد مسافر اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر نیلے سمندروں پر نکل پڑے۔ انسان کا یہ سفری جنون کوئی عام تفریح نہیں, بلکہ ایک ایسی نفسیاتی ضد ہے جہاں وہ وائرس کے قہر کو اپنے لائف سٹائل کے سامنے ہیچ سمجھ رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ مسافر جانتے بھی ہیں کہ وہ کس خاموش قاتل کی آغوش کی طرف بڑھ رہے ہیں؟
اس ہولناک حیاتیاتی کہانی کا پہلا خطرناک کردار ‘ہنٹا وائرس’ ہے، جس کا خونی ماضی تاریخ کے صفحات میں درج ہے۔ بیسویں صدی کے وسط میں جب کورین جنگ اپنے عروج پر تھی، تو دریائے ہنٹان کے قریب تعینات سیکڑوں فوجی ایک نامعلوم اور پراسرار بخار میں مبتلا ہو کر تڑپ تڑپ کر مرنے لگے۔ تب جا کر اس وائرس کا سراغ ملا۔ یہ کوئی عام نزلہ زکام نہیں، بلکہ چوہوں کے فضلے اور ان کے باسی گوداموں سے جنم لینے والی وہ بلا ہے جو ہوا میں معلق ہوتے ہی انسان کے پھیپھڑوں اور گردوں کو براہِ راست نشانہ بنا کر ناکارہ کر دیتی ہے۔ ابھی بحر اوقیانوس میں ہنٹا کے حملے سے تین مسافروں کی ہلاکت کا ماتم ختم نہیں ہوا تھا کہ ‘نورو وائرس’ نے دوسرا بڑا شب خون مار دیا۔ یہ وہی وائرس ہے جسے سنہ 1968 میں امریکہ کے شہر نورواک کے ایک اسکول میں قیامت ڈھانے کے بعد پہلی بار شناخت کیا گیا تھا۔ اسے عام زبان میں ‘اسٹمک فلو’ کہا جاتا ہے، لیکن اس کی سفاکی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ یہ آلودہ پانی، ادھ پکے سمندری کھانے اور لفٹ کے بٹنوں کے ذریعے بجلی کی تیزی سے پھیلتا ہے۔ فلوریڈا کے ‘کیریبین پرنسس’ سے لے کر فرانسیسی جہازوں تک، سو سے زائد مسافروں کا ایک ہی رات میں الٹیوں اور معدے کی شدید سوزش کے ساتھ بستر سے لگ جانا کوئی اتفاق نہیں، بلکہ اس وائرس کی بے رحم متعدی قوت کا ثبوت ہے۔
دنیا بھر کے نامور ماہرینِ صحت اب سر پکڑ کر بیٹھے ہیں کہ آخر ان لگژری بحری جہازوں پر ہی اتنے وائرس کیوں جنم لیتے ہیں؟ جواب سیدھا اور سنسنی خیز ہے۔ کروز جہاز دراصل لوہے کے وہ بند اور چمکدار ڈبے ہیں جہاں ہزاروں انجان مسافر اور عملہ ہفتوں تک ایک دوسرے کے سانس اور پسینے کے ساتھ جیتے ہیں۔ جہاں ڈائننگ ہالز کا بوفے سسٹم ہو، سوئمنگ pool کا سانجھا پانی ہو اور تھیٹرز کی بند ہوا ہو، وہاں سماجی دوری کا تصور محض ایک مذاق بن کر رہ جاتا ہے۔ اگر ایک بھی مسافر بیمار ہو، تو وہ نادانستہ طور پر چند گھنٹوں میں پورے جہاز کو ایک تیرتا ہوا ہسپتال بنا سکتا ہے۔ بات صرف ہنٹا اور نورو تک ختم نہیں ہوتی؛ ان بند دائروں میں انفلوئنزا، کورونا کی خطرناک تبدیل شدہ اقسام، خسرہ، اور ای کولی و سالمونیلا جیسے قاتل بیکٹیریا ہمیشہ گھات لگائے بیٹھے رہتے ہیں۔ یہ سمندر کا سفر، جو بظاہر ذہنی تناؤ کو دور کرنے اور بلڈ پریشر کو متوازن کرنے کا جھوٹا دلاسا دیتا ہے، درحقیقت ‘موشن سکنیس’ (سمندری بیماری)، شدید جسمانی تھکاوٹ اور مختلف ممالک کے جراثیموں کے اختلاط سے انسان کے اندرونی دفاعی نظام یعنی قوتِ مدافعت کا جنازہ نکال دیتا ہے۔
لیکن اس کے باوجود اگر رواں سال 38.3 ملین مسافروں کا سیلاب سمندر کا رخ کر رہا ہے، تو یہ دنیا کی سب سے بڑی سفری ہٹ دھرمی ہے۔ طویل لاک ڈاؤنز اور سفری پابندیوں کی گھٹن کا شکار ہونے والا جدید انسان اب نفسیاتی طور پر اتنا ضدی ہو چکا ہے کہ وہ تفریح کو زندگی کا لازمی حق سمجھتا ہے۔ کروز کمپنیوں نے بھی اس عوامی جنون کا پورا فائدہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے جہازوں پر ہسپتالوں کے پینل جیسے میڈیکل سینٹرز، آن بورڈ سپیشلسٹ ڈاکٹرز اور ہوا کو پاک کرنے والے مہنگے فلٹریشن سسٹم نصب کر کے مسافروں کو یہ پٹی پڑھا دی ہے کہ وہ موت کے سائے میں بھی محفوظ ہیں۔ ایک ہی سستے ٹکٹ میں دنیا کے کئی ممالک کی سیر اور پرتعیش رہائش کا یہ لالچ اتنا بڑا ہے کہ اس کے سامنے ہنٹا اور نورو کی ہلاکت خیزی کا خوف بھی گھٹنے ٹیک چکا ہے۔ اب جان جاتی ہے تو جائے ،ارمان نہیں جانے دئیے جا سکتے۔



