مرد بے چارے کہاں جائیں؟ کچھ بابا جی کی بھی سن لیں,تصویر کا دوسرا رخ

نہال معظم
کراچی میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے نے، جس میں ایک 64 سالہ شخص نے مبینہ طور پر اپنی 58 سالہ اہلیہ کو ازدواجی تعلق سے انکار پر قتل کر دیا، پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہم نے بھی ابتدائی ردِعمل میں اس واقعے کی مذمت کی، جیسا کہ ہر مہذب معاشرے میں کسی انسان کی جان لینے کی مذمت ہونی چاہیے۔ لیکن صحافت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ تصویر کے دوسرے رخ کو دیکھا جائے، خاص طور پر تب جب ملزم نے خود اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی وجہ بھی بیان کی ہو اور معاشرے کے ایک بڑے طبقے نے اس کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہو۔
یہ ہمدردی قتل کے ساتھ نہیں، بلکہ اس احساسِ محرومی کے ساتھ ہے جسے بہت سے مرد اپنی ازدواجی زندگی میں خاموشی سے جھیلتے ہیں۔
سب سے پہلے ایک بنیادی سوال۔ ہم اس واقعے پر اتنی بحث کیوں کر رہے ہیں؟ کیا صرف اس لیے کہ اس میں سیکس کا عنصر شامل ہے؟ مسئلہ دراصل یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ جنسی معاملات پر سنجیدہ اور بالغ گفتگو سے ہمیشہ گریز کرتا آیا ہے۔ ہم سیکس کو ایک فطری انسانی ضرورت کے بجائے ایک شرمناک موضوع سمجھتے ہیں۔ سیکس ایجوکیشن کا نام آتے ہی ہمیں بے حیائی نظر آنے لگتی ہے، حالانکہ اس کا تعلق انسانی تولیدی صحت، جسمانی آگاہی اور ازدواجی تعلقات کی بہتر تفہیم سے ہے۔
یہی وجہ ہے کہ شادی کے مقاصد پر بھی ہم کھل کر بات نہیں کرتے۔ ہم نکاح کو محض ایک سماجی رسم، معاشی بندوبست یا اولاد پیدا کرنے کا ذریعہ بنا دیتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مرد اور عورت کی فطری اور جذباتی ضروریات کی جائز تسکین بھی اس ادارے کا بنیادی مقصد ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"اور اسی نے تمہاری جنس سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو۔” (الروم: 21)
ایک اور مقام پر ارشاد ہے:
"وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔” (البقرہ: 187)
لباس صرف جسم نہیں ڈھانپتا، سکون، تحفظ، قربت اور اپنائیت بھی دیتا ہے۔ مرد کے لیے بیوی محض شریکِ حیات نہیں بلکہ ذہنی آسودگی، جذباتی رفاقت، جسمانی تسکین اور خاندانی استحکام کا مرکز ہوتی ہے۔ اسی طرح عورت کے لیے شوہر صرف کفیل نہیں بلکہ ایک سائبان، محافظ، معاون اور زندگی کے بوجھ کا شریک ہوتا ہے۔
لیکن ہمارے معاشرے میں ایک عجیب تضاد موجود ہے۔ نسل در نسل سیکس کو ایک ممنوع، شرمناک اور گناہ سے قریب تر موضوع بنا کر پیش کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سی خواتین کے ذہن میں جائز ازدواجی تعلق بھی کسی خوشگوار اور فطری ضرورت کے بجائے ایک اضافی بوجھ کے طور پر بیٹھ گیا۔ شادی کے ابتدائی برسوں میں تو تعلق کسی نہ کسی درجے میں برقرار رہتا ہے، لیکن بچوں، گھریلو ذمہ داریوں، تھکن اور عمر بڑھنے کے ساتھ بعض گھروں میں یہ رشتہ محض رسمی سا رہ جاتا ہے۔
کئی مرد شکوہ کرتے ہیں کہ ان کی جذباتی اور جسمانی ضروریات کو ہوس کا نام دے دیا جاتا ہے۔ اگر وہ قربت چاہیں تو انہیں خود غرض کہا جاتا ہے، اگر خاموش رہیں تو اندر ہی اندر محرومی بڑھتی رہتی ہے، اور اگر کسی غلط راستے پر چل پڑیں تو معاشرہ انہیں بے وفا قرار دیتا ہے۔ ایسے میں ایک متوسط طبقے کا وہ مرد جو نہ دوسری شادی کا مالی بوجھ اٹھا سکتا ہے، نہ خاندان کی ناراضی مول لے سکتا ہے اور نہ مذہبی یا اخلاقی حدود توڑنا چاہتا ہے، آخر اپنی فطری خواہشات کے ساتھ کیا کرے؟
یہ سوال آسان نہیں، مگر حقیقی ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ ہر کیس میں قصور صرف ایک فریق کا نہ ہو۔ بعض اوقات شوہر ظالم ہوتا ہے، بعض اوقات بیوی کا رویہ بھی برسوں کی تلخی، سرد مہری یا مسلسل انکار کی صورت میں رشتے کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ حقیقت ہر گھر میں مختلف ہو سکتی ہے۔ اسی لیے کسی ایک واقعے کی بنیاد پر تمام مردوں یا تمام عورتوں کو ایک ہی پیمانے سے ناپنا درست نہیں۔
اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ تشدد کو جائز قرار دیا جائے۔ قتل، قتل ہی رہتا ہے اور کسی محرومی، غصے یا ناانصافی سے اس کا جواز پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن اگر ہم صرف قاتل کو کوس کر آگے بڑھ جائیں اور ان ازدواجی مسائل پر بات نہ کریں جو ہزاروں گھروں میں خاموشی سے موجود ہیں تو شاید ہم مسئلے کی جڑ کو کبھی نہ سمجھ سکیں۔
شادی صرف چھت، کپڑا، کھانا اور بچوں کی پرورش کا نام نہیں۔ یہ دو انسانوں کی جسمانی، جذباتی، نفسیاتی اور روحانی شراکت کا نام ہے۔ جب ان میں سے کسی ایک پہلو کو مستقل نظر انداز کیا جاتا ہے تو رشتے کے اندر خاموش دراڑیں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں۔ دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کی ضرورتوں، کمزوریوں اور توقعات کو سمجھیں، کیونکہ خوشگوار ازدواجی زندگی صرف حقوق مانگنے سے نہیں بلکہ ایک دوسرے کی ضروریات کو محسوس کرنے سے بنتی ہے۔
شاید اسی احساس کا نام شادی ہے، اور شاید اسی احساس کے ختم ہو جانے سے المیے جنم لیتے ہیں۔



