ٹرمپ کی بولتی بند: تہران کی سڑکیں یا ڈیجیٹل وارفیئر کا اوپن ایئر تھیٹر؟

نہال معظم
کہتے ہیں ایک تصویر ہزار الفاظ کے برابر ہوتی ہے، مگر تہران کی سڑکوں پر لگے دیوہیکل ڈیجیٹل بل بورڈز نے اس کہاوت کو اپ گریڈ کرکے ہزار میزائلوں کے برابر بنا دیا ہے۔ یہ محض اشتہاری سکرینیں نہیں بلکہ جدید دور کی وہ سیاسی توپیں ہیں جو بارود کے بجائے پکسلز فائر کرتی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں گولہ نہیں گرتا، بیانیہ گرتا ہے، اور اکثر سیدھا مخالف کے اعصاب پر۔ تہران کے ایک ایسے ہی مشہور بل بورڈ پر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر دکھائی گئی تھی جس میں آبنائے ہرمز کے پس منظر میں ان کے ہونٹوں کو دھاگے سے سی کر بند کر دیا گیا تھا، گویا دنیا کو یہ پیغام دیا جا رہا ہو کہ اب یہاں امریکی نہیں، بلکہ ایرانی زبان چلے گی۔
ایک زمانہ تھا جب نازی جرمنی اور سوویت یونین اپنے نظریات دیواروں پر پینٹ کرتے تھے۔ مصور سیڑھی پر چڑھتا، رنگ ملاتا، نعرہ لکھتا اور پھر پینٹ کے سوکھنے کا انتظار کرتا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ صبح کسی دفتر میں اے آئی کو دو لائنوں کی ہدایت دی جاتی ہے، چند منٹ بعد ایک دھماکہ خیز گرافکس تیار ہوتی ہے اور دوپہر تک وہی تصویر عالمی میڈیا، ایکس، فیس بک اور واٹس ایپ یونیورسٹی کے نصاب کا حصہ بن چکی ہوتی ہے۔ گویا پروپیگنڈا اب پینٹ برش سے نہیں بلکہ "کنٹرول سی” اور "کنٹرول وی” سے چلتا ہے۔
تہران کے ان بل بورڈز کا اصل ہدف سڑک پر کھڑا عام راہگیر نہیں ہوتا۔ اصل نشانہ وہ عالمی ڈیجیٹل ہجوم ہے جو ہر وقت نئی سنسنی کی تلاش میں رہتا ہے۔ جب ٹرمپ کے منہ سلائی والی تصویر جیسے شاہکار کسی چوک پر آویزاں ہوتے ہیں تو چند گھنٹوں میں وہ دنیا بھر کے نیوز رومز میں زیرِ بحث آ جاتے ہیں۔ یوں سمجھ لیں کہ یہ دیوہیکل سکرینیں ریاستی سطح کے وہ فیس بک اسٹیٹس ہیں جنہیں نہ اَن فرینڈ کیا جا سکتا ہے، نہ میوٹ اور نہ ہی بلاک۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اب دیواریں خاموش نہیں رہیں۔ وہ بولتی بھی ہیں، طنز بھی کرتی ہیں اور بعض اوقات تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مخالفین کا بلڈ پریشر اور شوگر لیول بھی مانیٹر کر رہی ہوں۔ پہلے جنگیں سرحدوں پر لڑی جاتی تھیں، اب جنگیں ہیش ٹیگز، میمز اور ایل ای ڈی سکرینوں پر لڑی جا رہی ہیں۔
پاکستانی اگر کسی چیز میں عالمی معیار رکھتے ہیں تو وہ سیاسی لطیفے بنانے میں رکھتے ہیں۔ اس لیے اگر ہمارے سیاستدانوں نے تہران ماڈل سے کچھ سیکھ لیا تو پھر سڑکوں پر لگے بل بورڈز خود ایک الگ نیوز چینل بن جائیں گے۔ ذرا تصور کیجیے، آپ صبح دفتر جا رہے ہوں اور ایک دیوہیکل سکرین پر سوال چمک رہا ہو: "آج کی مہنگائی کا اصل ذمہ دار کون؟” ساتھ ایسی ایڈیٹ شدہ تصویر لگی ہو کہ متعلقہ شخصیت شام تک پانچ ٹاک شوز میں اپنی صفائی پیش کر رہی ہو۔
یہی وجہ ہے کہ جدید دور میں دیواریں، سکرینیں اور بل بورڈز صرف شہری آرائش کا حصہ نہیں رہے۔ یہ نفسیاتی جنگ کے ہتھیار بن چکے ہیں۔ جو تصویر چند سیکنڈ کے لیے آپ کی نظر سے گزرتی ہے، وہ کئی مرتبہ گھنٹوں تک آپ کے ذہن میں گردش کرتی رہتی ہے۔ سیاست دان تقریریں کرتے ہیں، ترجمان پریس کانفرنسیں کرتے ہیں، مگر ایک طاقتور تصویر بعض اوقات ان سب پر بھاری پڑ جاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اکیسویں صدی میں طاقت صرف ٹینک، میزائل یا معیشت کا نام نہیں رہی؛ طاقت اس بات کا نام بھی ہے کہ آپ اپنی کہانی کتنی تیزی اور کتنی دلکش شکل میں دنیا کے سامنے رکھتے ہیں۔ تہران نے اس کھیل کو بخوبی سمجھ لیا ہے۔ سڑکوں کو میڈیا، بل بورڈز کو ہتھیار اور تصاویر کو سفارتی پیغام بنا دیا گیا ہے۔
اب سوال صرف یہ نہیں کہ دیوار پر کیا لکھا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اگلی وائرل تصویر کون سی ہوگی۔ کیونکہ آج کے دور میں جنگ کا میدان بھی بدل چکا ہے اور تماشائی بھی بدل چکے ہیں۔



