آگ کے 70 دن؛ ایران تمام پیش گوئیوں کے برخلاف کیوں نہیں ٹوٹا؟

تحریر: سعید شہرابی فراهانی ( فارسی سے ترجمہ)

(سعید شہرابی فراهانی ایران کے قومی سلامتی، بین الاقوامی تعلقات اور تزویراتی امور کے تجزیہ کار اور محقق ہیں۔ وہ علاقائی سیاست، مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی، جنگی حکمتِ عملی اور جغرافیائی سیاست پر مضامین اور تجزیے لکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں عموماً ایران کی داخلی استحکام، مزاحمتی پالیسی اور عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات پر توجہ دی جاتی ہے)

جدید جنگوں کی منطق میں فتح صرف زمین پر قبضے سے متعین نہیں ہوتی۔ گزشتہ چند دہائیوں میں بڑی طاقتوں نے یہ دکھایا ہے کہ ممالک پر حملے کا اصل مقصد ان کی “صلاحیتِ حکمرانی” کو تباہ کرنا ہوتا ہے؛ یعنی ایسا ملک جو دارالحکومت کے سقوط کے بغیر بھی عسکری، اقتصادی اور نفسیاتی دباؤ کے تحت اندر سے مفلوج ہو جائے۔ عراق، افغانستان، لیبیا اور حتیٰ کہ شام کے تجربات نے ثابت کیا کہ اس انہدام کی پہلی نشانیاں شہروں کی تاریکی، عوامی خدمات میں خلل، بینکاری نظام کی تباہی، ایندھن کی قلت اور سماجی بدامنی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔

لیکن اب ایران پر امریکہ کے وسیع حملوں کے آغاز کو 70 دن گزر چکے ہیں، اور بہت سی پیش گوئیوں کے برخلاف نہ صرف ایران کا حکومتی ڈھانچہ نہیں بکھرا بلکہ ملک کے بیشتر حصوں میں روزمرہ زندگی بدستور جاری ہے۔ سیاسی نقطۂ نظر سے ہٹ کر بھی یہ ایک اہم تزویراتی واقعہ ہے؛ ایسا واقعہ جسے محض ایک معمولی اتفاق قرار نہیں دیا جا سکتا۔

بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ ایران ابتدائی ہفتوں ہی میں 2003 کے بعد عراق یا قبضے کے بعد افغانستان جیسی صورتحال کا شکار ہو جائے گا؛ ایک ایسا ملک جہاں بڑے پیمانے پر بجلی کی بندش، طبی خدمات کی تباہی، ایندھن کا بحران، سڑکوں پر بدامنی اور مکمل اقتصادی انتشار ہو۔ مگر آج، تمام دباؤ کے باوجود، ملک کا بجلی کا نظام فعال ہے، اسپتال خدمات انجام دے رہے ہیں، بینک کام کر رہے ہیں، پیٹرول پمپ کھلے ہیں، سرکاری دفاتر فعال ہیں اور زندگی کا سلسلہ رکا نہیں۔

شاید داخلی عوامی رائے کے لیے یہ منظر اب معمول بن چکا ہو، لیکن قومی سلامتی اور طویل جنگوں کے ادب میں کسی ملک کا بیک وقت عسکری اور اقتصادی دباؤ کے باوجود فعال رہنا، “قومی مزاحمتی صلاحیت” یا “قومی تاب آوری” کی بلند سطح کی علامت ہوتا ہے۔ یہ صلاحیت صرف عسکری سازوسامان سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ سماجی یکجہتی، تاریخی تجربے، بحران کے انتظام اور جغرافیائی سیاسی حیثیت کے امتزاج کا نتیجہ ہوتی ہے۔

ایران گزشتہ چار دہائیوں سے تقریباً مسلسل پابندیوں، سیکیورٹی خطرات اور بیرونی دباؤ کا سامنا کرتا آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کا فیصلہ ساز ڈھانچہ بتدریج بحرانی حالات کے لیے مستقل آمادگی اختیار کرتا گیا۔ خطے کے بہت سے ممالک کے برعکس، جن کے بنیادی ڈھانچے کمزور اور حد سے زیادہ مرکزی نوعیت کے ہیں، ایران نے حالیہ برسوں میں اپنے اہم نیٹ ورکس کو زیادہ محفوظ اور منتشر بنایا، اور آج عوامی خدمات کے تسلسل میں اس کے نتائج نمایاں نظر آتے ہیں۔

لیکن مسئلہ صرف بنیادی ڈھانچے کا نہیں۔ بہت سی جنگوں میں ممالک کو صرف بیرونی حملے تباہ نہیں کرتے بلکہ عوامی حوصلے کا ٹوٹ جانا اور سماجی انتشار اصل سبب بنتا ہے۔ ایران میں، تمام اقتصادی دباؤ اور سیاسی اختلافات کے باوجود، بحران سے نکلنے کے لیے اب بھی ایک حد تک اجتماعی ہم آہنگی موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عوام میں بے چینی یا نارضایتی نہیں، بلکہ یہ کہ معاشرہ ابھی “سماجی انہدام” کے مرحلے میں داخل نہیں ہوا۔

اس کے ساتھ ساتھ ایران کی جغرافیائی سیاسی حیثیت بھی اس پورے معاملے کو پیچیدہ بناتی ہے۔ ایران عالمی نظام میں کوئی حاشیائی ملک نہیں۔ آبنائے ہرمز پر اس کی گرفت اور دنیا کی توانائی گزرگاہوں کے قلب میں اس کا واقع ہونا اس حقیقت کو جنم دیتا ہے کہ ایران کے خلاف کوئی بھی وسیع جنگ صرف ایک علاقائی بحران نہیں رہے گی بلکہ عالمی توانائی اور معیشت کو بھی خطرے میں ڈال دے گی۔ یہی وجہ ہے کہ طویل المدتی جنگ کی قیمت مخالف فریق کے لیے بھی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

ایک اور اہم نکتہ جدید جنگوں کی نوعیت ہے۔ آج کی جنگ صرف میزائلوں اور ٹینکوں کی جنگ نہیں بلکہ بیانیے، ادراک اور قوموں کے حوصلوں کی جنگ بھی ہے۔ ایسے حالات میں شہروں میں معمول کی زندگی کا جاری رہنا، بینکوں کا کھلا رہنا، طبی مراکز کا فعال ہونا اور لوگوں کی سڑکوں پر موجودگی صرف خدماتی مسئلہ نہیں بلکہ “ارادوں کی جنگ” کا حصہ ہے۔ جو ملک دباؤ کے باوجود اپنے روزمرہ نظم کو برقرار رکھے، دراصل وہ دشمن کو اس کے بنیادی مقصد یعنی عوامی ارادے کو توڑنے میں ناکام بنا دیتا ہے۔

یقیناً اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی بحران موجود نہیں۔ جنگ، چاہے مکمل تباہی تک نہ پہنچے، معیشت، نفسیاتی سلامتی اور سماجی سرمائے پر بھاری قیمت عائد کرتی ہے۔ مہنگائی کا دباؤ، اقتصادی غیر یقینی، سماجی ذہنی تھکن اور وسائل کا زوال ایسی حقیقتیں ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن ایران اور دیگر مشابہ مثالوں کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ ملک ابھی “مکمل عملی تعطل” کے مرحلے میں داخل نہیں ہوا، جبکہ یہی مرحلہ عموماً طویل جنگوں کا پہلا ہدف ہوتا ہے۔

علاقائی اور عالمی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ بحران کے دوران استحکام برقرار رکھنا آسان کام نہیں۔ بہت سے ممالک براہِ راست جنگ کے بغیر بھی پابندیوں اور محاصروں کے تحت شدید توانائی بحران، عوامی خدمات کی خرابی اور اقتصادی انتشار کا شکار ہو چکے ہیں۔ اسی لیے ان حالات میں ایران کی نسبتی کارکردگی اور استحکام بہت سے علاقائی اور بین الاقوامی مبصرین کے لیے قابلِ توجہ ہے۔

لیکن شاید سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس سطح کی مزاحمتی صلاحیت کے بارے میں کم بات کیوں کی جاتی ہے؟

اس کا جواب واضح ہے؛ کیونکہ ملک کے اندر لوگ آہستہ آہستہ “زندگی کے جاری رہنے” کے عادی ہو جاتے ہیں۔ جب بجلی بند نہ ہو، اسپتال فعال ہوں، ایندھن تقسیم ہو رہا ہو اور زندگی چلتی رہے، تو معاشرہ رفتہ رفتہ اسے معمول سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ جدید جنگوں میں اسی حد تک استحکام برقرار رکھنا بھی ایک ناقابلِ حصول خواب بن چکا تھا۔

ایران آج، تمام اختلافات اور تنقیدوں سے قطع نظر، ایک اہم حقیقت دنیا کے سامنے رکھ رہا ہے: ایک ایسا ملک جس کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ عسکری، اقتصادی اور میڈیا دباؤ کے تحت بکھر جائے گا، وہ اب بھی قائم ہے اور خود کو چلا رہا ہے۔ شاید ان ۷۰ دنوں کی سب سے بڑی کامیابی صرف عسکری مزاحمت نہیں بلکہ اس منصوبے کی ناکامی ہے جس کا مقصد عوام کے حوصلے توڑنا اور روزمرہ زندگی کو مفلوج کرنا تھا۔

مزید خبریں

Back to top button