ماتلی،نوتکانی چوک کے 30دکانداروں نے غیر قانونی قبضے کے الزامات مسترد کردیئے

ماتلی(رپورٹ:ایم آر گدی/جانو ڈاٹ پی کے)نوتکانی چوک کے30سے زائد دکانداروں نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں اپنے کاروباری مراکز سے متعلق درپیش صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے خلاف کی جانے والی کارروائیاں حقائق کے منافی اور غیر منصفانہ ہیں،دکانداروں کی نمائندگی کرتے ہوئے بلال تاج کمبوہ نے کہا کہ انہوں نے تمام پلاٹس باقاعدہ قانونی طریقہ کار کے تحت خریدے ہیں جن کے سیل سرٹیفکیٹس مختیارکار ریونیو ماتلی کی جانب سے جاری کیے گئے اور ان کا اندراج سرکاری ریکارڈ میں بھی موجود ہے، ان کے مطابق یہ دکانیں گزشتہ چار دہائیوں سے کاروباری سرگرمیوں کا مرکز ہیں اور اس دوران خرید و فروخت کا سلسلہ بھی مکمل طور پر سرکاری قواعد و ضوابط کے تحت جاری رہا ہے، انہوں نے کہا کہ ان دکانوں سے تقریباً 400 خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے اور کسی بھی کارروائی کی صورت میں سینکڑوں افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے، دکانداروں نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی قسم کے غیر قانونی قبضے میں ملوث نہیں ہیں تاہم محکمہ ریونیو کے ایک افسر کے طرز عمل پر انہوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے، اسی موقع پر متاثرہ مارکیٹ کے دیگر دکانداروں نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں طویل عرصے سے اپنے کاروبار جاری رکھنے کے باوجود اچانک قانونی دباؤ اور کارروائیوں کا سامنا ہے جس سے ان کے روزگار بری طرح متاثر ہو رہا ہے، دکانداروں نے بتایا کہ اسی مارکیٹ میں ایک دکان ایک بیوہ خاتون کی ملکیت ہے جن کے شوہر نے اپنی زندگی میں دو دکانیں خریدی تھیں اور ان کے انتقال کے بعد انہی دکانوں کی کرایہ آمدنی اس خاتون اور ان کے بچوں کے گھرانے کا واحد سہارا ہے، دکانداروں کے مطابق یہ آمدنی ان کے خاندان کی بنیادی ضرورت پوری کرتی ہے اور کسی بھی منفی اقدام کی صورت میں وہ شدید معاشی مشکلات کا شکار ہو جائیں گے، دکانداروں نے مطالبہ کیا کہ معاملے کا شفاف جائزہ لیا جائے اور تمام قانونی دستاویزات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصفانہ فیصلہ کیا جائے تاکہ کسی بھی بے گناہ فریق کا نقصان نہ ہو۔



