محکمہ تعلیم بدین میں مبینہ طور پررشوت لیکر 16اساتذہ بھرتی کرنے کا انکشاف

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ پی کے)محکمہ تعلیم بدین کے افسروں کی جانب سے مبینہ طور پر لاکھوں روپے رشوت لے کر این سی ایچ ڈی ادارے میں16اساتذہ بھرتی کرنے اور ان کی فہرست سیکریٹری تعلیم کو بھیجنے کا انکشاف ہوا ہے۔ پرائمری تعلیم بدین کے زیرِ انتظام کام کرنے والے این سی ایچ ڈی اساتذہ کے ڈیٹابیس میں16نئے اساتذہ شامل کرنے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد تعلیمی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اساتذہ کے اس ڈیٹابیس کی جانچ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر پرائمری، تمام تعلقہ ایجوکیشن آفیسرز اور ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر بدین سے کروانے کے بعد سندھ سیکریٹریٹ کو ارسال کی گئی۔ تقریباً 8 ماہ قبل 16 نوجوانوں سے بھاری رشوت لے کر انہیں استاد ظاہر کیا گیا۔ مذکورہ فہرست کے مطابق تعلقہ ٹنڈوباگو میں 11، تعلقہ بدین میں 3، تعلقہ ماتلی میں 1 اور تعلقہ گولاڑچی میں بھی 1 استاد شامل کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ فہرست ڈائریکٹر حیدرآباد کے ذریعے سندھ سیکریٹریٹ روانہ کی گئی جہاں اعلیٰ حکام نے اس پر بارکوڈ لگا کر اسے محکمۂ تعلیم کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی اپلوڈ کر دیا ہے۔ دوسری جانب سندھ سیکریٹریٹ کراچی کی جانب سے ایک بار پھر این سی ایچ ڈی اساتذہ کے پرانے ڈیٹابیس کی جانچ کے لیے خط بھی جاری کیا گیا ہے یاد رہے کہ سال 2021 میں این سی ایچ ڈی کی وفاق سے سندھ منتقلی کے دوران سیکریٹری اکبر لغاری کے دور میں ضلع بدین کے 557 اساتذہ کی فہرست جاری کی گئی تھی، جس کی دوبارہ تصدیق کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ ڈیٹابیس میں بیان کردہ تعداد سے زائد اساتذہ، خاص طور پر تعلقہ ماتلی اور ٹنڈوباگو میں شامل کرنے کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ جعلی نام شامل کرنے کے لیے امیدواروں سے 3 لاکھ سے 5 لاکھ روپے تک وصول کیے گئے ہیں ذرائع کے مطابق ان اساتذہ کی بڑی اکثریت تعلقہ بدین اور ٹنڈوباگو سے تعلق رکھتی ہے، جہاں دونوں تعلقوں کے تعلقہ ایجوکیشن آفیسرز آپس میں سگے بھائی ہیں، جس سے شکوک و شبہات مزید بڑھ گئے ہیں۔ یاد رہے کہ 2022 کے نوٹیفکیشن کے مطابق این سی ایچ ڈی اساتذہ کی یہ عارضی اسامیاں ہیں، جو کسی استاد کی ریٹائرمنٹ کے بعد خودبخود ختم ہو جاتی ہیں اور ان پر نئے استاد کی بھرتی کی کوئی قانونی گنجائش موجود نہیں اس سلسلے میں تعلیمی اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ تعلیم جیسے مقدس شعبے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے ذرائع کے مطابق ضلع بدین میں 16 جعلی نام شامل ہونے کے باعث ضلع کے 557 اساتذہ سمیت سندھ بھر کے 5000 اساتذہ کی آن لائن تنخواہوں اور پرسنل آئی ڈیز کا نظام متاثر ہو گیا ہے۔ یاد رہے کہ اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ نے محکمۂ تعلیم سے بارہا اساتذہ کا ڈیٹابیس طلب کیا، جس کے لیے تین یاد دہانیاں بھی سیکریٹریٹ کو بھیجی گئیں، مگر تاحال مطلوبہ ڈیٹابیس اے جی سندھ کو فراہم نہیں کیا گیا اور ڈائریکٹر نے کہا کہ وہ اس بات کی تحقیقات کریں گے کہ واقعی فہرست میں نام شامل کیے گئے ہیں یا نہیں۔ اس حوالے سے جب ڈی ای او پرائمری الطاف میمن سے موقف لینے کی کوشش کی گئی تو ان کا موبائل نمبر بند تھا، جس کے بعد ڈائریکٹر تعلیم حیدرآباد ممتاز نوتکانی سے رابطہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بارے میں علم نہیں، وہ تحقیقات کریں گے، جس میں چند دن لگ سکتے ہیں، اس کے بعد ہی کچھ بتایا جا سکے گا۔






