تھرپارکر میں ایک ماہ کے دوران 50 سے زائد آتشزدگی کے واقعات،اربوں کا نقصان،فائر بریگیڈ صرف بااثر افراد تک محدود

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی)ضلع تھرپارکر میں ایک ماہ کے دوران 50 سے زائد آتشزدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن کے نتیجے میں کروڑوں بلکہ اربوں روپے کا نقصان ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ فائر بریگیڈ گاڑیوں کے صرف سیاسی شخصیات کی اوطاقوں اور مویشی باڑوں تک محدود ہونے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ تھرپارکر کے مختلف علاقوں میں ایک ماہ کے دوران آگ لگنے کے 50 سے زائد واقعات پیش آئے، جن میں متعدد دیہات متاثر ہوئے۔ گزشتہ روز ڈیپلو کے قریب گاؤں لسیو میں آگ لگنے سے ایسر چیلاانی کی ایک لانڈی اور اس میں رکھا قیمتی سامان جل کر خاکستر ہوگیا۔ جب کہ اتوار کے دن بھی گاؤں کو آگ لگی تھی۔ متاثرین میں سیٹھ آچار، اجمل لالو، تولارام، ہتھیرام، ماسٹر چیتن، بختو مل، کیول، بھگڑو، آتم اور دیگر شامل ہیں، جن کے تقریباً 50 چھونپرے جل گئیں۔ آتشزدگی سے مویشی بھی ہلاک ہوئے۔ آگ میں اربوں رپئے کا نقصان ہوا۔ اسی طرح گاؤں بنسی دھر میں سوائی کولہی، میوو کولہی، الجی کولہی اور دلیپ کولہی کے مکانات اور تمام سامان جل گیا۔ ننگرپارکر کے قریب گاؤں ویئل میں کولہی برادری کے چار گھر اور سامان خاکستر ہوگیا۔ اسلام کوٹ کے قریب گاؤں گوڑھیار میں آگ لگنے سے 50 گھر جل گئے جبکہ کروڑوں روپے مالیت کا سامان جل گیا۔ چند روز قبل گاؤں لالو وہندانی کے قریب جنگل میں بھی خطرناک آگ بھڑک اٹھی، جسے دیہاتیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت قابو کیا۔ اس کے علاوہ گاؤں ہریار اور سگھروڑ میں بھی آگ لگنے کے واقعات پیش آئے۔ رپورٹ کے مطابق ایک ماہ کے دوران 50 سے زائد واقعات کے باوجود کہیں بھی فائر بریگیڈ بروقت موقع پر نہ پہنچ سکی۔ علاقہ مکینوں نے شکایت کی ہے کہ بیشتر آتشزدگی کے واقعات میں انتظامیہ کی جانب سے کوئی مدد فراہم نہیں کی جاتی اور دیہاتی اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ فائر بریگیڈ گاڑیاں ہنگامی صورتحال میں بھی سروس دینے سے انکار کر دیتی ہیں۔ مزید یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں سیاسی سفارش کے بغیر غریب شہریوں کو ایمرجنسی سروس فراہم نہیں کرتیں۔ متاثرین کے مطابق جب کسی گاؤں میں آگ لگتی ہے تو پہلے سفارش ڈھونڈنی پڑتی ہے، تب تک گھر جل چکے ہوتے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ بھی بااثر افراد کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہے، جس کے باعث فائر بریگیڈ گاڑیاں عوامی خدمت کے بجائے بااثر شخصیات کے مویشی باڑوں یا نجی اوطاقوں تک محدود رہتی ہیں۔



