​پاکستان کی عالمی ثالثی، صدر زرداری کی ‘خاموشی’ اور ذوالفقار علی بھٹو کی تاریخی یادداشتیں

اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)​پاکستان کے سیاسی و سفارتی منظرنامے میں اس وقت کئی اہم سوالات گردش کر رہے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان مستقبل کے مذاکرات کے لیے اسلام آباد، جنیوا، انقرہ اور ریاض کے نام زیرِ بحث ہیں، لیکن یہ بات طے ہے کہ یہ مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں ہی ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اور عسکری قیادت انتہائی تدبر کے ساتھ اس عالمی بحران کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔

​ایک اہم سوال جو سوشل میڈیا پر اٹھایا جا رہا ہے وہ صدر آصف علی زرداری کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں سے دوری ہے۔ اس پر وضاحت یہ ہے کہ صدرِ مملکت کا عہدہ آئینی طور پر نیگوشیشنز سے اوپر ہے اور تمام انتظامی اختیارات وزیراعظم کے پاس ہوتے ہیں۔ صدر زرداری کسی ناراضگی کی بنا پر نہیں بلکہ اپنے آئینی رول کے تحت خاموش ہیں؛ جب مذاکرات حتمی مرحلے پر پہنچیں گے تو صدر مملکت ریاست کے سربراہ کے طور پر ان کی میزبانی اور جشن کا حصہ بنیں گے۔ اس وقت وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی حکمتِ عملی رنگ لا رہی ہے جسے عالمی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے۔

​اسی دوران سابق بیوروکریٹ سعید مہدی کی یادداشتوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سعید مہدی، جو بھٹو صاحب کی پھانسی کے وقت ڈی سی راولپنڈی تھے، نے انکشاف کیا ہے کہ بھٹو صاحب نے آمر کے سامنے جھکنے اور معافی نامے پر دستخط کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ بھٹو صاحب کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج 49 سال بعد بھی ان کا نام ووٹ بینک کی ضمانت ہے۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام اور 1973 کا آئین بھٹو صاحب کا وہ تاریخی ورثہ ہے جس کی بدولت آج ملک کی بقا اور آزادی قائم و دائم ہے۔ اس خصوصی تجزیے کی مکمل تفصیلات اس لنک پر ملاحظہ کریں:

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button